مہاراشٹر اسمبلی میں آشا بھونسلے کو خراجِ عقیدت کے دوران مراٹھی پڑھنے میں غلطیاں، تنقید کے بعد اسپیکر کا اظہارِ افسوس

مہاراشٹر اسمبلی میں آشا بھونسلے کے لیے تعزیتی قرارداد پڑھتے وقت اسپیکر راہل نارویکر سے مراٹھی زبان میں کئی غلطیاں ہو گئیں۔ تنقید اور سیاسی ردعمل کے بعد انہوں نے ایوان میں افسوس کا اظہار کیا

<div class="paragraphs"><p>مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر / آئی اے این ایس</p></div>
i

ممبئی: مہاراشٹر اسمبلی میں معروف گلوکارہ آشا بھونسلے کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے دوران مراٹھی زبان میں ہونے والی غلطیوں نے سیاسی تنازعہ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اسمبلی کے اسپیکر راہل نارویکر کی جانب سے تعزیتی قرارداد پڑھتے وقت بعض ناموں اور الفاظ کی غلط ادائیگی پر اپوزیشن جماعتوں اور مراٹھی زبان کے حامی حلقوں نے سخت اعتراض کیا، جس کے بعد اسپیکر نے ایوان میں اظہارِ افسوس کیا ہے۔

تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب راہل نارویکر اسمبلی میں آشا بھونسلے سمیت دیگر شخصیات کے لیے تعزیتی قرارداد پیش کر رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے بعض مقامات پر مراٹھی متن کو غلط پڑھا۔ سب سے زیادہ توجہ اس بات پر گئی کہ آشا بھونسلے کے والد اور نامور موسیقار دیناناتھ منگیشکر کا نام غلط انداز میں پڑھا گیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا۔


مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی جیسے اہم ادارے میں مراٹھی زبان کے ساتھ اس نوعیت کی لاپروائی قابلِ افسوس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں مراٹھی زبان کے احترام پر زور دیا جاتا ہے، اس لیے عوامی عہدوں پر فائز شخصیات کو بھی زبان کے استعمال میں زیادہ احتیاط برتنی چاہیے۔

ادھر شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے بھی اسپیکر کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عام شہریوں سے مراٹھی زبان جاننے اور استعمال کرنے کی توقع کی جاتی ہے تو آئینی عہدوں پر موجود افراد کے لیے بھی یکساں معیار ہونا چاہیے۔ راؤت نے اس معاملے پر راہل نارویکر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد راہل نارویکر نے بدھ کو اسمبلی میں وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان سے جو غلطیاں ہوئیں وہ مکمل طور پر غیر ارادی تھیں۔ ان کے مطابق تعزیتی قراردادوں کے متن کی طباعت واضح نہیں تھی، حروف بہت چھوٹے تھے اور بعض تکنیکی مسائل بھی موجود تھے، جس کی وجہ سے پڑھتے وقت چند غلطیاں ہو گئیں۔

اسپیکر نے کہا کہ انہیں مراٹھی زبان پر فخر ہے اور وہ ہمیشہ اس کے احترام کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی شخصیت یا مراٹھی زبان کی بے حرمتی کا ان کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ انہوں نے ایوان اور ریاست کے عوام کے جذبات مجروح ہونے پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ آئندہ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کے لیے خصوصی احتیاط برتی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔