مہاراشٹر: ’مہایوتی کے پاس کسانوں کے لیے پیسہ نہیں، سیاسی وفاداریاں خریدنے کے لیے کھلا ہے خزانہ‘

شیو سینا (یو بی ٹی) نے مہایوتی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کی مدد کے لیے وسائل نہیں، لیکن سیاسی وفاداریاں خریدنے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>ادھو ٹھاکرے / آئی اے این ایس</p></div>
i

ممبئی: شیو سینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) نے مہاراشٹر کی برسراقتدار مہایوتی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے پر ریاست کو 25 سال پیچھے دھکیلنے اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ اقتدار کی سیاست اور دولت کے استعمال کا طریقہ آخرکار خود حکومت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

پارٹی کے ترجمان ’سامنا‘ کے اداریے میں الزام لگایا گیا کہ حکومت عوامی مسائل سے توجہ ہٹا کر سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی کا جشن منا رہی ہے۔ اداریے میں شیو سینا (یو بی ٹی) کے 6 باغی ارکان پارلیمان کے ایکناتھ شندے کے دھڑے میں شامل ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس پیشرفت پر وزیر اعلیٰ نے خوشی کا اظہار کیا، جبکہ ریاست کئی سنگین مسائل سے دوچار ہے۔

اداریے میں طنزیہ انداز میں کہا گیا کہ اس سیاسی کارروائی پر سینکڑوں کروڑ روپے خرچ کیے گئے اور سوال اٹھایا گیا کہ ان سیاسی تبدیلیوں کے اصل سرپرست کون ہیں۔ پارٹی نے کہا کہ جس مہاراشٹر میں کبھی غداری کو معیوب سمجھا جاتا تھا، وہاں اب سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی کو کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔


شیو سینا (یو بی ٹی) نے ریاستی حکومت پر انتظامی غفلت کا بھی الزام لگایا۔ اداریے کے مطابق بارش میں تاخیر کے باعث دیہی علاقوں میں پانی کی قلت، مویشیوں کے لیے چارے کی کمی اور نقل مکانی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ممبئی کو پانی فراہم کرنے والے ذخائر میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

پارٹی نے الزام لگایا کہ نیٹ یو جی 2026 کے پرچہ افشا معاملے کا مرکز مہاراشٹر ہے اور گرفتار افراد کے برسراقتدار جماعت سے قریبی روابط ہیں، جس سے نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ اداریے میں مطالبہ کیا گیا کہ اپوزیشن کے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دیے جانے تک اسمبلی اجلاس ملتوی کیا جائے۔

پارٹی نے کسانوں کے مسائل، کم از کم امدادی قیمت، فصل بیمہ اور کسانوں کی اموات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے پاس کسانوں کی مدد کے لیے وسائل نہیں، لیکن سیاست دانوں کو اپنی جانب لانے کے لیے مالی وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اداریے میں بے روزگاری، خراب ہوتی امن و امان کی صورت حال، ودربھ اور مراٹھواڑہ میں خشک سالی اور ’لاڈکی بہن‘ منصوبے کے تحت خواتین کی امداد میں کمی جیسے معاملات پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ پارٹی نے یہ بھی الزام لگایا کہ ریاستی اسمبلی کے دونوں ایوان قائد حزب اختلاف کے بغیر چل رہے ہیں اور حکومت جان بوجھ کر تقرریوں میں تاخیر کر رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔