مراٹھا ریزرویشن کے لئے منوج جرانگے پاٹل نے پھر شروع کی بھوک ہڑتال، وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ

منوج جرانگے پاٹل کے مطالبہ میں مراٹھا لوگوں کو او بی سی کے تحت سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں ریزرویشن، کنبی ذات کا سرٹیفکیٹ، مراٹھا برادری کی معاشی اور سماجی پسماندگی کا سروے وغیرہ شامل ہے

<div class="paragraphs"><p>منوج جرانگے پاٹل / تصویر: آئی اے این ایس</p></div>

منوج جرانگے پاٹل / تصویر: آئی اے این ایس

user

قومی آوازبیورو

مراٹھا ریزرویشن کا مطالبہ کرنے والی شیوبا تنظیم کے لیڈر منوج جرانگے پاٹل نے ہفتہ (8 جون) کو دوبارہ بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ انہوں نے مہاراشٹر حکومت سے اس سلسلے میں جنوری میں کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی حکام کی جانب سے ابتدا میں منوج جرانگے پاٹل کو بھوک ہڑتال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، جو بعد میں دے دی گئی۔

خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کے مطابق بھوک ہڑتال کی اجازت ملنے کے بعد منوج جرانگے پاٹل نے بڑی تعداد میں اپنے حامیوں کے ساتھ اپنے گاؤں انتروالی-سراٹی میں بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ واضح رہے کہ جنوری میں وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے منوج جرانگے پاٹل سے ملاقات کی تھی اور انہیں مراٹھا ریزرویشن سے متعلق مسودے کی ایک کاپی دی تھی۔

منوج جرانگے پاٹل کی مراٹھا ریزرویشن کے لیے بھوک ہڑتال کی شروعات اگست 2023 سے ہوئی اور پھر ریزرویشن کے لئے دباؤ بنانے کے لیے احتجاج، ریلیاں، نوی ممبئی تک پیدل مارچ سمیت کئی طرح کے احتجاج کا سہارا لیا۔ دباؤ میں آ کر ریاستی حکومت نے اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا اور ان کے کئی مطالبات تسلیم کئے۔ معاہدے کے مطابق کچھ دیگر مطالبات پرعمل درآمد باقی ہے۔


واضح رہے کہ مہاراشٹر میں مراٹھا آبادی تقریباً 33 فیصد ہے۔ وہ گزشتہ چار دہائیوں سے نوکریوں اور تعلیم میں ریزرویشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ منوج جرانگے پاٹل نے مطالبہ کیا ہے کہ مراٹھا سماج کے لوگوں کو او بی سی کے تحت سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں ریزرویشن دیا جائے، مراٹھوں کو کنبی ذات کا سرٹیفکیٹ دینے کا حکومتی حکم نامہ پاس کیا جائے، مراٹھا برادری کی معاشی اور سماجی پسماندگی کا سروے کرنے کے لیے فنڈز فراہم کیا جائے اور اس کے لیے کئی ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔

جرانگے پاٹل مہاراشٹر کے بیڈ ضلع کے رہنے والے ہیں۔ 12ویں جماعت تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ بہتر مواقع کی تلاش میں پڑوسی ضلع جالنہ میں رہنے لگے۔ اس عرصے میں اپنی روزی روٹی کے لئے انہوں نے ہوٹل میں کام کیا۔ وہ کانگریس پارٹی میں شامل ہو گئے۔ ان کے کام کو دیکھ کر پارٹی کے اراکین نے انہیں کانگریس کا جالنہ ضلع صدر مقرر کیا لیکن کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے پارٹی چھوڑ دی۔ منوج جرانگے پاٹل نے مراٹھا برادری کے لوگوں کے لئے ’شیوبا سنگٹھن‘ کے نام سے ایک تنظیم بنائی اور اپنی آواز بلند کرنے کے لیے حکومت کے خلاف مظاہرہ بھی کیا۔ گزشتہ سال ستمبر میں جرانگے نے مراٹھا ریزرویشن کے لیے تحریک چلائی تھی جس میں تشدد پھوٹ پڑا ٹھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔