انوپم کھیر منموہن سنگھ کی مدح سرائی پر مجبور ... سہیل انجم

منموہن سنگھ عالمی سطح پر وقار اور اعتبار رکھتے ہیں۔ امریکہ کے سابق صدر براک اوبامہ نے ایک بار اپنی تقریر میں کہا تھا کہ جب منموہن سنگھ بولتے ہیں تو پوری دنیا سنتی ہے۔

مضمون نگار: سہیل انجم

راقم الحروف کو یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں کہ انوپم کھیر نہ تو بہت اچھے اداکار ہیں اور نہ ہی بہت اچھے انسان۔ سیاست داں تو وہ ہیں ہی نہیں۔ پانچ سو فلموں میں کام کرنے کے باوجود ان کے کسی رول کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ یادگار ہے۔ کسی فلم شائق سے اگر پوچھا جائے کہ وہ ایک منٹ کے اندر یہ بتا دے کہ اسے انوپم کھیر کا کون سا رول یادگار لگا تو شاید وہ نہ بتا سکے۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ان کا ایک کردار یادگار بن جائے گا یا کم از کم شائقین کو یاد رہے گا۔ لیکن اس میں ان کی اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کا کوئی رول نہیں ہوگا بلکہ اگر ایسا ہوگا تو سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وجہ سے ہوگا۔

قارئین پوچھ سکتے ہیں کہ اداکاری انوپم کھیر کی ہوگی تو پھر کریڈٹ منموہن سنگھ کو کیوں؟ در اصل ہم جس کردار کی طرف اشارہ کر رہے ہیں وہ ڈاکٹر منموہن سنگھ ہی کا ہے جو انوپم کھیر نے ادا کیا ہے۔ منموہن سنگھ کے سابق میڈیا مشیر سنجے بارو نے ان پر ایک کتاب تصنیف کی ہے جس کا نام ہے The Accidental Prime Minister۔ یعنی حادثاتی وزیر اعظم۔ اسی کتاب کی بنیاد پر اور اسی نام سے ایک فلم شوٹ کی گئی ہے جس میں منموہن سنگھ کا رول انوپم کھیر نے ادا کیا ہے۔ من موہن سنگھ کے گیٹ اپ میں ان کی جو تصاویر عام ہوئی ہیں وہ سابق وزیر اعظم کی روایتی نیلی پگڑی میں ہیں اور گیٹ اپ بالکل من موہن سنگھ جیسا ہی ہے۔

راقم الحروف کو انوپم کھیر بحیثیت اداکار کبھی بہت زیادہ نہیں جچے۔ یعنی ہم ان کے مداح کبھی نہیں رہے۔ لیکن ان کے مخالف بھی نہیں رہے۔ تاہم جب آر ایس ایس کے اشارے پر اور اس کے بھرپور تعاون سے دہلی کے رام لیلا میدان میں یو پی اے حکومت کے خلاف انا ہزارے کی نام نہاد بدعنوانی مخالف تحریک چلی اور انوپم کھیر نے اس کی حمایت کی تو ان کا نام ہم نے اپنی ناپسندیدہ شخصیات کی فہرست میں شامل کر لیا۔ جب مرکز میں مودی حکومت کے قیام کے بعد انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی شان میں قصیدہ خوانی شروع کر دی اور منموہن سنگھ کی نکتہ چینی کی تو ناپسندیدگی کا گراف اور اوپر چلا گیا۔ انوپم کھیر نے جب سابق وزیر اعظم کا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا اور ایسے بیانات دیے جو منموہن سنگھ جیسی شخصیت کے قد کے اعتبار سے درست نہیں تھے تو ہمیں بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔

منموہن سنگھ عالمی سطح پر وقار اور اعتبار رکھتے ہیں۔ امریکہ کے سابق صدر براک اوبامہ نے ایک بار اپنی تقریر میں کہا تھا کہ جب منموہن سنگھ بولتے ہیں تو پوری دنیا سنتی ہے۔ وہ چنندہ ماہرین معاشیات میں شامل ہیں۔ شرافت و وضعداری ایسی کہ قربان جائیے۔ ہندوستانی سیاست نے آزادی کے بعد سے لے کر آج تک ایسا شریف النفس، مہذب اور وضعدار سیاست داں نہیں دیکھا ہوگا۔ جب ایسی شخصیت کے بارے میں انوپم کھیر جیسے موقع پرست کچھ ایسی ویسی بات کریں تو زبان پر یہی محاورہ آئے گا کہ ’’مینڈکی کو بھی زکام ہو گیا ہے‘‘۔

لیکن اب جبکہ وہ فلم مکمل ہو گئی، انوپم کھیر نے ایک ایسا بیان دیا ہے جو ان کے تئیں ناپسندیدگی کے جذبے کی شدت کو کسی حد تک کم کرتا ہے۔ جب یو پی اے حکومت چلی گئی اور منموہن سنگھ پر کیے جانے والے بدعنوانی کے الزامات کی بوچھاڑ کے درمیان کسی صحافی نے ان کا رد عمل جاننے کی کوشش کی تھی تو انھوں نے کہا تھا کہ تاریخ ان کے ساتھ انصاف کرے گی۔ اب انوپم کھیر نے بھی یہی بات کہی ہے۔ اپنی فلم مکمل کرنے کے بعد منموہن سنگھ کے یوم پیدائش پر ان کو مبارکباد کا ایک پیغام ارسال کرتے ہوئے کھیر نے کہا کہ تاریخ آپ کے ساتھ ناانصافی نہیں کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ جب میں نے یہ فلم کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو میں بڑے تذبذب میں تھا۔ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں یہ رول ادا کروں یا نہ کروں۔ کیونکہ ان کے خلاف بے شمار الزامات عاید کیے گئے تھے۔ ان کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ بد عنوان ہیں اور انھوں نے بد عنوانوں کو چھوٹ دی ہے۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ وہ بولتے نہیں ہیں۔ لیکن اب میں بلا جھجک کہہ سکتا ہوں کہ منموہن سنگھ ایک ایماندار شخص ہیں۔ ان کی ایمانداری پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ان کے بارے میں میری رائے بدل گئی ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ اس ایک سال کے دوران میں نے منموہن سنگھ کو اپنے اندر اتار لیا۔ ان کے بارے میں خوب مطالعہ کیا۔ ان کے اقدامات اور فیصلوں کے بارے میں جانا۔ یہ میرے لیے ایک انتہائی قیمتی فلم ہے۔ میں نے پانچ سو فلموں میں کام کیا ہے۔ لیکن اس میں کام کرنے اور منموہن سنگھ کا کردار ادا کرنے میں مزا آگیا۔ منموہن سنگھ جی آپ کے سفر زندگی کے لیے آپ کا شکریہ۔ تاریخ آپ کے ساتھ ناانصافی نہیں کرے گی۔ ان کے بارے میں لوگوں کاکہنا ہے کہ وہ بولتے نہیں لیکن سنجے بارو سے انھوں نے کافی گفتگو کی ہے۔

انوپم کھیر نے منموہن سنگھ کے بارے میں غلط رائے قائم کرنے پر معذرت بھی چاہی ہے۔ اس طرح انوپم کھیر نے جب اس رول کی ادائیگی کے دوران سابق وزیر اعظم کی شخصیت کا مطالعہ کیا تو انھیں بڑی حیرت ہوئی کہ ان کے بارے میں لوگوں نے کیسے کیسے غلط خیالات پھیلا رکھے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سابق وزیر اعظم ایک خاموش طبیعت کے مالک ہیں۔ وہ کم گو ہیں۔ جب بہت زیادہ ضرورت آن پڑتی ہے جبھی بولتے ہیں۔ یو پی اے حکومت کے خاتمے کے بعد جب صحافیوں نے ان کی خاموشی کے بارے میں ان سے سوال کیا تو انھوں نے ایک انتہائی جامع شعر سے اپنا جواب دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا:

ہزاروں گویائی سے بہتر ہے میری خاموشی

نہ جانے کتنے سوالوں کی آبرو رکھ لی

انوپم کھیر نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ وہ اگر چہ کم گو ہیں لیکن فیصلے لینے میں بہت سخت رہے ہیں۔ اپنی دس سالہ حکومت کے دوران انھوں نے بہت اہم فیصلے کیے تھے۔ خاص طور پر امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک رشتے کے قیام کے سلسلے میں۔ خیال رہے کہ ان کی حکومت میں امریکہ کے ساتھ باہمی رشتوں میں جس نئے دور کا آغاز ہوا تھا آج اسی کی بنیاد پر وزیر اعظم مودی امریکہ سے اپنی قربت اور ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی ’’دوستی‘‘ کی دہائی دیتے ہیں۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی شرافت و وضعداری کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ جب وزیر اعظم مودی نے ان پر پاکستان کے ساتھ مل کر ان کے خلاف سازش کرنے کا سنگین الزام عاید کیا تب بھی وہ خاموش رہے۔ انھوں نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ جبکہ یہی مودی ہیں کہ منی شنکر ایر کے ایک لفظ ’’نیچ‘‘ کو انتخابی ایشو بنا لیا تھا۔ جو الزام مودی نے منموہن سنگھ پر لگایا تھا اگر وہی الزام منموہن سنگھ نے مودی پر لگایا ہوتا تو پورے ملک میں طوفان اٹھ گیا ہوتا۔ تخریبی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہوتیں۔ لیکن منموہن سنگھ تخریب کار نہیں ہیں۔ اسی لیے انھوں نے مودی کا دیا ہوا یہ زہر کا پیالہ خاموشی سے پی لیا۔

بہر حال انوپم کھیر نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کے بارے میں اپنی خراب رائے بدل لی ہے اور اب انھوں نے ان کی مدح سرائی کی ہے۔ یہ منموہن سنگھ کی ذاتی خوبیاں ہیں جنھوں نے انوپم کھیر کو اس کے لیے مجبور کیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ بی جے پی کے دوسرے لوگ بھی منموہن سنگھ کو ان کی حقیقی شخصیت کے آئینے میں دیکھتے اور سیاسی مصلحتوں کو ایک طرف رکھ کر ان کے بارے میں ایماندارانہ رائے قائم کرتے۔ خیر وہ اچھی رائے قائم کریں یا نہ کریں لیکن بقول من موہن سنگھ تاریخ ان کے ساتھ انصاف کرے گی۔ اب یہی بات انوپم کھیر نے بھی کہی ہے۔ امید ہے کہ آئندہ ان کے دیگر سیاسی مخالفین بھی ایسا ہی کہیں گے۔

سب سے زیادہ مقبول