منی پور انتخاب: پرینکا گاندھی نے بی جے پی حکومت پر پھر لگایا کچھ بڑے صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانے کا الزام

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی پالیسی بڑے صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانے پر مبنی ہے۔

پرینکا گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
پرینکا گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے 15 فروری کو منی پور اسمبلی انتخاب کے پیش نظر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی پالیسی بڑے صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانے پر مبنی ہے جس سے غریب اور متوسط طبقہ کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ پرینکا گاندھی نے الزام عائد کیا کہ مرکز نے مختلف مذاہب، ذاتوں اور علاقوں کے لوگوں کے لیے سیاسی اور ثقافتی آزادی فراہم نہیں کی ہے۔

کانگریس لیڈر دہلی سے ہی ورچوئل پلیٹ فارم پر منی پور میں جلسہ سے خطاب کر رہی تھیں۔ انھوں نے اس موقع پر کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت عام طور پر ملک کے دو سے تین بڑے صنعت کاروں کو فائدہ پہنچا رہی ہے جو ایک دن میں ہزاروں کروڑ کما رہے ہیں۔ دوسری طرف غریب اور متوسط طبقہ کے لوگوں کو حکومت سے کوئی حمایت نہیں مل رہی ہے۔


پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’بی جے پی کے ذریعہ انفرادی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے۔ پارٹی نے انتخاب سے قبل کئی وعدے کیے، لیکن انتخاب کے بعد بی جے پی نے منی پور اور شمال مشرقی علاقہ کو نظر انداز کر دیا۔ سب کچھ مرکز کی طرف سے تھوپا گیا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے کہ بی جے پی اور کانگریس کی پالیسی الگ ہے، انھوں نے بھگوا پارٹی پر سماج میں تفریق اور بدامنی کے سبب مختلف طبقات کے لوگوں کو ایک صحیح جگہ نہیں دینے کا الزام عائد کیا۔ منی پور کو ملک کا زیور بتاتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ سیاحتی شعبہ میں روزگار کے بڑے ذرائع ہونے کے باوجود ریاست میں بے روزگاری کا بڑا مسئلہ ہے اور چھوٹے و متوسط صنعتوں کی مدد سے روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ ریاستوں، علاقوں اور ملک کے سبھی لوگوں کے ساتھ بی جے پی کے ذریعہ یکساں سلوک نہیں کیا جا رہا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ مرکز اور ریاستوں میں بی جے پی حکومت انفرادی زندگی اور ثقافت، زندگی جینے کے مختلف طریقوں، متنوع نظریات کی عزت نہیں کرتی ہے اور تفریق کو فروغ دیتی ہے۔


یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ کانگریس پارٹی نے قوم کی تعمیر کی اور ہندوستان کے حصولِ آزادی میں تعاون دیا ہے، پرینکا گاندھی نے کہا کہ بڑے پیمانے پر بدعنوانی، بے روزگاری، مہنگائی اور غیر جمہوری سرگرمیوں نے منی پور میں لوگوں کی زندگی کو چکناچور کر دیا۔

منی پور میں سرکاری ملازمتوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن اور خواتین کے لیے مفت ٹرانسپورٹیشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ وہ لگاتار خواتین کو یکساں مواقع فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جب کہ بی جے پی کا نظریہ کبھی بھی اس پالیسی کی حمایت نہیں کرتا ہے۔


یہ تذکرہ کرتے ہوئے کہ منی پور میں سیاحت، آبی بجلی سے لے کر ہتھ کرگھا اور دستکاری کے بے پناہ امکانات ہیں، انھوں نے کہا کہ اگر انتخاب کے بعد کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو بے روزگاری بھتہ دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ وہ ہر ذات پر مبنی گروپ اور طبقہ کی حفاظت کریں گے۔ ڈرگس کے بڑھتے استعمال کو روکا جائے گا، مفت صحت خدمات فراہم کی جائیں گی۔ انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت بننے پر بے روزگاری کا مسئلہ دور کرنے کے ساتھ ہی خواتین کے مسائل کا حل بھی نکالا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’’کانگریس ہمیشہ ترقی اور خواتین کی خود مختاری پر توجہ مرکوز کرتی رہی ہے۔‘‘

پرینکا گاندھی نے کہا کہ 2017 کے اسمبلی انتخاب میں کانگریس کو 28 سیٹیں (60 رکنی اسمبلی میں) حاصل کر کے مینڈیٹ ملا تھا، لیکن بی جے پی نے جوڑ توڑ، غیر جمہوری عمل، رشوت اور بنیادی طور پر غیر اخلاقی طریقوں سے اقتدار حاصل کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔