علی گڑھ: ’جے شری رام‘ کہنے سے انکار کرنے پر مسلم نوجوان کے ساتھ مار پیٹ، ملزمان گرفتار

عامر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی گاؤں ناگلہ کھیما میں کپڑے بیچنے گئے تو باپ بیٹے کی جوڑی نے پہلے ان سے اس کا نام پوچھا، پھر اسے لاٹھیوں سے پیٹا اور انہیں 'جے شری رام' کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا۔

موب لنچنگ، تصویر آئی اے این ایس
موب لنچنگ، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

علی گڑھ: علی گڑھ کے ایک گاؤں میں 'جے شری رام' کے نعرے لگانے سے انکار کرنے پر دو لوگوں نے ایک مسلم نوجوان کی مبینہ طور پر پٹائی کی اور اس کے ساتھ لوٹ بھی کی۔ خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کے مطابق، سرکل آفیسر اترولی ایس پی سنگھ نے بتایا کہ واقعہ کے دو دن بعد متاثرہ نوجوان عامر خان کے والد کی شکایت پر ہردوا گنج پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

سرکل آفیسر نے کہا کہ رحیم الدین نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ ان کے بیٹے کو ملزم دیویندر اور اس کے والد راجو نے ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کپڑے کی قیمت پر تنازعہ کے بعد دونوں فریقین کے درمیان تصادم شروع ہوا۔


ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 307 (قتل کی کوشش) اور 323 (دانستہ طور پر چوٹ پہنچانا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم عامر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی گاؤں ناگلہ کھیما میں کپڑے بیچنے گئے تو باپ بیٹے کی جوڑی نے پہلے ان سے اس کا نام پوچھا، پھر انہیں لاٹھیوں سے پیٹا اور انہیں 'جے شری رام' کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا۔

عامر نے اس واقعے کی ویڈیو بنائی ہے۔ نیز، یہ الزام عائد کیا کہ ’’انہوں نے 10 ہزار روپے اور موبائل فون بھی چھین لیا‘‘۔ جب پولیس نے ملزمان کو حراست میں لیا تو انہوں نے 'بھارت ماتا کی جئے' کے نعرے لگانے لگے اور ان کی گرفتاری کا ویڈیو بنانے والے ایک شخص پر پتھراؤ کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 03 Nov 2021, 1:11 PM