اوم پرکاش راجبھر کی جیل میں قید مختار انصاری سے ملاقات، انتخابی میدان میں اتارنے پر تبادلہ خیال

راجبھر کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی نہ صرف مختار انصاری بلکہ ان کے کنبہ کے کسی بھی رکن کو امیدوار بنانے کے لئے تیار ہے، وہ جہاں سے چاہیں انہیں وہاں سے انتخابی میدان میں اتار دیں گے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) کے سربراہ اوم پرکاش راجبھر نے باندہ جیل میں قید مختار انصاری سے ملاقات کی ہے۔ راجبھر نے بتایا کہ مختار سے انتخابات کے حوالہ سے تبادلہ خیال ہوا۔ قبل ازیں، راجبھر یہ اعلان کر چکے ہیں کہ مختار انصاری جہاں سے چاہیں، انہیں ٹکٹ دے کر وہاں سے امیدوار بنایا جائے گا۔

راجبھر نے مختار انصاری کو مسیحا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی پارٹی نہ صرف مختار انصاری بلکہ ان کے کنبہ کے کسی بھی رکن کو امیدوار بنانے کے لئے تیار ہے، وہ جہاں سے چاہیں انہیں وہاں سے انتخابی میدان میں اتار دیں گے۔


راجبھر نے کہا کہ مختار انصاری عوام کے ووٹ سے انتخاب جیتتے چلے آ رہے ہیں، اگر وہ مافیا ہوتے تو لوگ انہیں ووٹ کیوں دیتے، اس لحاظ سے مختار انصاری غریبوں کے مسیحا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک جیل میں قید ہونے کا سوال ہے تو کسی پر مقدمہ درج ہو، اسے جیل جانا پڑتا ہے، لیکن انہیں تاحال سزا نہیں ہوئی ہے۔

اوم پرکاش راجبھر نے کہا کہ مایاوتی بھی کبھی مختار کو مسیحا قرار دیتی تھیں لیکن آج مافیا قرار دے رہی ہے۔ راجبھر نے کہا کہ مایاوتی کے کہنے سے کوئی مافیا نہیں ہو جائے گا۔ مختار اور ان کے کنبہ کو ٹکٹ دینے کے سوال پر راجبھر نے کہا کہ ہمارے مورچہ میں جو لوگ آئیں گے، ان سبھی کا استقبال ہے اور مختار کا بھی خیرمقدم ہے۔


خیال رہے کہ آئندہ سال ہونے جا رہے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اوم پرکاش راجبھر کی پارٹی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی نے سماجوادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا تھا۔ حال ہی میں اکھلیش یادو نے کہا تھا کہ انہیں راجبھر پر پورا بھروسہ ہے۔ جلد ہی دنوں پارٹیوں کے مابین سیٹوں کی تقسیم کا فیصلہ ہو جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔