ممتا بنرجی نے یوگی حکومت کو بنایا نشانہ، کہا ’یو پی میں رام راج نہیں کلِنگ راج چل رہا‘

بھوانی پور میں شاندار جیت حاصل کرنے کے بعد ممتا بنرجی نے اپنے حلقے انتخاب میں واقع شیتلا مندر اور گرودوارکا دورہ کیا، ان کے ساتھ ان کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی بھی تھے۔

ممتا بنرجی / یو این آئی
ممتا بنرجی / یو این آئی
user

یو این آئی

کولکاتا: وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے اترپردیش کے لکھیم پور میں کسانوں کو کار سے کچل کر ہلا ک کئے جانے کی واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اترپردیش میں رام راجیہ نہیں بلکہ کلِنگ راج (مارنے والا راج) جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد لکھیم پور میں دفعہ 144 نافذ کرکے یوگی حکومت جمہوریت کا خاتمہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد عام شہریوں کی آواز کو دبانا ہے۔

بھوانی پور میں شاندار جیت حاصل کرنے کے بعد ممتا بنرجی نے اپنے حلقے انتخاب میں واقع شیتلا مندر اور گرودوارکا دورہ کیا۔ ان کے ساتھ ان کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی بھی تھے۔ گرودوارہ سے نکلتے وقت ممتا بنرجی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لکھیم پور کھیری کا واقعہ افسوس ناک ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے پاس انسانیت کے بارے میں کہنے کے لیے کچھ نہیں بچا ہے۔ کسانوں کو بے دردی سے کچل دیا گیا ہے، بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ وہ جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے۔ اسی لیے کسی کو بھی مرنے والوں کے اہل خانہ سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ دفعہ 144 نافذ کردیا گیاہے۔ بی جے پی کے زیر اقتدار ہر ریاست میں آپ دیکھیں گے کہ دفعہ 144 جاری کی جا رہی ہے۔ وہ جمہوریت کا خاتمہ چاہتے ہیں، آمریت چلانا چاہتے ہیں۔ ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔


اتر پردیش میں لکھیم پور کھیری میں اتوار کو کسانوں کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر مرکزی وزیر اجے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا کی گاڑی نے چار کسانوں کو کچل دیا۔ اس کے بعد سے ہی لکھیم پور میں سیاست گرم ہے۔ کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی کو لکھیم پور جانے سے روک دیا گیا اور انہیں پولس حراست میں لیا گیا۔ترنمول کانگریس نے بھی اپنا ایک وفد وہاں بھیجا ہے۔چوں کہ اس وقت کسی بھی سیاسی لیڈر کو لکھیم پور جانے کی اجازت نہیں ہے اس لئے زیادہ امکان ہے کہ ترنمول کانگریس کا وفد بھی لکھیم پور نہ جا سکے۔

ممتا بنرجی نےکہا کہ اس سے قبل آسام میں این آر سی تحریک کے دوران گیا تھا مگر اس کو بھی ائیر پورٹ پر ہی روک دیا گیا ترنمول کا ایک وفد اترپردیش کے ہاتھرس میں اجتماعی عصمت دری کے واقعے کے خلاف احتجاج کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمیں روکنے کے لیے تریپورہ میں دفعہ 144 نافذ کردیا گیا ہے۔


وزیر اعلیٰ سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو لکھیم پور کھیری واقعہ کی ذمہ داری پر استعفیٰ دینا چاہیے۔ اس کے جواب میں ممتا بنرجی نے کہا، 'کون استعفی دے گا؟ اگرچہ یہ تمام واقعات رونما ہوئے، رام کا راج چل رہا ہے! رام راج نہیں، اتر پردیش میں کلنگ راج جاری ہے۔ وہ پہلے لوگوں کو مارتا ہے، پھر دفعہ 144 جاری کرتا ہے۔

اتر پردیش حکومت نے لکھیم پور واقعہ میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو 45 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ خاندان کے کسی فرد کو نوکری دینے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ ممتا بنرجی نے کہاکہ معاوضہ ادا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن کیا معاوضہ کے ساتھ کسی شخص کی زندگی بحال ہو سکتی ہے۔ اس سے قبل ممتا بنرجی نے ٹوئیٹ کرکے اس واقعے کی مذمت کی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔