کسان تحریک: راکیش ٹکیت سمیت 43 کسان لیڈروں کو سپریم کورٹ نے بھیجا نوٹس

ہریانہ حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ متعلقہ فریقوں سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، لیکن کسان لیڈر بلانے کے باوجود بات چیت کے لیے آنے کو تیار نہیں ہیں۔

راکیش ٹکیت / قومی آواز
راکیش ٹکیت / قومی آواز
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے نئے زرعی قوانین کے خلاف دہلی کے بارڈ ر پر گزشتہ سال نومبر ماہ سے جاری احتجاج کے دوران سڑکیں جام کیے جانے کے معاملے میں سنیوکت کسان مورچہ کے لیڈر راکیش ٹکیت، یوگیندر یادو، درشن پال، گورو نام سنگھ سمیت 43 کسان تنظیموں کے لیڈروں کو پیر کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا۔

جسٹس سنجے کشن کول اور ایم ایم سندریش کی بنچ نے نوئیڈا کی زیر التواء درخواست کے سلسلے میں ہریانہ حکومت کی درخواست پر نوٹس جاری کیا۔ نوئیڈا کی رہنے والی مونیکا اگروال نے قومی دارالحکومت کے علاقے میں بار بار سڑکوں کو جام کئے جانے کے تعلق سے مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی۔


عدالت عظمیٰ میں ہریانہ حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ ٹریفک جام کے مسئلے کو دور کرنے کے لیے ریاست نے کئی کوششیں کی ہیں۔ متعلقہ فریقوں سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، لیکن کسان لیڈر بار بار بلانے کے باوجود بات چیت کے لیے آنے کو تیار نہیں ہیں۔ عدالت کے سامنے انہوں نے کسان لیڈروں کو نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی جسے بنچ نے قبول کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا۔

عدالت نے 30 ستمبر کو سماعت کے دوران 7 اکتوبر 2020 (شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری دھرنا مظاہرہ) کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرکار کسانوں کی تحریک کے دوران سڑکوں کو جام کے معاملے میں کیا کارروائی کر رہی۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت 20 اکتوبر مقرر کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔