جموں و کشمیر میں اگلے پچاس برسوں میں بڑا زلزلہ آنے کا امکان: ماہر ارضیات

پروفیسر بٹ نے کہا کہ سری نگر جانے والی ریلوے ٹریک کی تعمیر کے لئے 83 جیالوجیکل رپورٹس آئی تھیں لیکن جب اس پر ایک کمیشن بیٹھا تو انہوں نے دیکھا کہ ایک بھی رپورٹ دوسری رپورٹ سے نہیں ملتی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: معروف ماہر ارضیات پروفیسر جی ایم بٹ کا کہنا ہے کہ زلزلیاتی پیمانے پر خطرناک زون میں آنے والے جموں و کشمیر میں اگلے چالیس پچاس برسوں میں ایک بڑا زلزلہ آنے کا امکان ہے جس کی ریکٹر اسکیل شدت آٹھ ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان خطرات کے باوجود بھی تعمیراتی کاموں جیسے ٹنل، شاہراہ وغیرہ کی تعمیر کے لئے ماہرین ارضیات کی طرف سنجیدگی سے رجوع نہیں کیا جاتا ہے۔ پروفیسر بٹ نے کہا کہ ڈیٹا کی تحقیق کے مطابق جموں و کشمیر میں اگلے چالیس- پچاس برسوں کے دوران بڑا زلزلہ آسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'ہمارے پاس زیادہ پرانا ڈیٹا نہیں ہے، یہاں پانچ سو برسوں کے بعد ایک بڑا زلزلہ آنے کی روایت رہی ہے، ماضی میں سب سے بڑا زلزلہ 1555 میں آیا تھا اور اس تھیوری کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے جموں وکشمیر میں اگلے چالیس پچاس برسوں میں بڑا زلزلہ آسکتا ہے جس کی ریکٹر اسکیل پر شدت 8 یا اس کے آس پاس ہوسکتی ہے لیکن سب سے زیادہ متاثرہ علاقے کون ہوں گے یہ نہیں کہا جاسکتا ہے'۔

موصوف پروفیسر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں کشتواڑ اور اوڑی مظفر آباد بلٹ زیادہ ایکٹو ہیں لیکن وہاں جو زلزلے آتے ہیں ان کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3 یا 4 درج کی جاتی ہے اور بڑے زلزلے کے امکانات نہیں ہیں۔ موصوف پروفیسر نے بتایا کہ زلزلے سے ہونے والے مالی و جانی نقصان سے بچنے کا واحد راستہ زلزلوں کے بارے میں جانکاری حاصل کرنا اور ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے تعمیرات کھڑا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'لوگ زلزلوں سے نہیں مرتے ہیں بلکہ تعمیرات لوگوں کے جانی نقصان کا باعث بن جاتے ہیں اگر زلزلوں کے بارے میں جانکاری حاصل کی جائے اور ٹیکنالوجی اور عقل کو استعمال کر کے تعمیرات کھڑی جائیں تو نقصان ہونے کے بہت ہی کم امکانات ہوتے ہیں لیکن یہاں رشوت دے کر تعمیرات کھڑی جاتی ہیں'۔ پروفیسر بٹ نے کہا کہ سری نگر جانے والی ریلوے ٹریک کی تعمیر کے لئے 83 جیالوجیکل رپورٹس آئی تھیں لیکن جب اس پر ایک کمیشن بیٹھا تو انہوں نے دیکھا کہ ایک بھی رپورٹ دوسری رپورٹ سے نہیں ملتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ انسانی مداخلت زلزلوں کے آنے کی وجہ ہوسکتی ہے لیکن اس سے بڑے پیمانے کے زلزلے نہیں آسکتے ہیں۔ پروفیسر بٹ نے کہا کہ زلزلہ آنے میں شدت سے زیادہ مرکز اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جموں کے آس پاس زلزلے کا مرکز ہوگا اور شدت ریکٹر سکیل پر صرف چھ ہی درج ہوگی تو جموں شہر خدانخواستہ قبرستان بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زلزلے آنے کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی ہے البتہ ڈیٹا کی تحقیق کے بعد سائنسدان یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی خاص جگہ چار پانچ سال میں زلزلہ آسکتا ہے جس کی شدت یہ ہوسکتی ہے۔

موصوف نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سالانہ قریب تین سو زلزلے آتے ہیں لیکن ان میں سے بیشتر ایسے ہوتے ہیں جنہیں محسوس نہیں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے ہم زلزلوں سے محفوظ رہنے کے لئے بالکل تیار نہیں ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر میں گزشتہ 20 دنوں کے دوران زلزلوں کے 21 جھٹکے محسوس کیے گئے جبکہ 26 جون کو دن میں سات بار زلزلوں کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

next