مہاراشٹر: آزاد میدان میں کسانوں کی یلغار ملک کو نئی سمت اور حوصلہ بخشے گا

دہلی میں احتجاج کرنے والے کسانوں کی حمایت میں ممبئی کے آزاد میدان میں مشترکہ کسان مزدور مورچہ کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ اس احتجاج کو کانگریس سمیت مہاوکاس اگھاڑی کی دیگر پارٹیوں نے بھی حمایت دی ہے۔

بالاصاحب تھورات، تصویر آئی اے این ایس
بالاصاحب تھورات، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ممبئی: مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف دہلی میں دوماہ سے جاری کسانوں کا احتجاج تاریخ رقم کر رہا ہے۔ ان قوانین کے خلاف پنجاب و ہریانہ کے کسانوں کے سڑکوں پر اترنے کے بعد سخت سردی میں مودی حکومت نے ان کسانوں پر پانیوں کی بوچھارماری مگر کسان پیچھے نہیں ہٹے۔ آزاد میدان میں کسانوں کا یہ یلغار دہلی میں کسانوں کے احتجاج کو نئی طاقت اور نیا حوصلہ دے گا اور ملک کو نئی سمت عطا کرے گا۔ مودی حکومت نے مزدوروں وکسانوں کے وجود پر ہی ڈاکہ ڈال دیا ہے۔ اس نے کسانوں کی زمینوں کو دھناسیٹھوں کے نام کرنے کی سازش رچی ہے۔ یہ سخت تنقید آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر و وزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے کی ہیں۔ وہ یہاں آزاد میدان میں ریاست بھر سے آئے کسانوں سے خطاب کر رہے تھے جو مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

دہلی میں احتجاج کرنے والے کسانوں کی حمایت کے لیے ممبئی کے آزاد میدان میں مشترکہ کسان مزدور مورچہ کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ اس احتجاج کو کانگریس سمیت مہاوکاس اگھاڑی کی دیگر پارٹیوں نے بھی حمایت کی ہے۔ اس احتجاج میں کانگریس کے ریاستی صدر بالاصاحب تھورات کے ساتھ این سی پی کے سربراہ شردپوار، شیتکری کامگار پکش کے جینت پاٹل، وزیرتعمیرات جیتندر اوہاڈ، کانگریس کے لیڈر وسابق وزیر نسیم خان، ممبئی کانگریس کے صدر بھائی جگتاپ، سماج وادی پارٹی مہاراشٹر کے صدر ابوعاصم اعظمی، بائیں بازو کے لیڈر اشوک ڈھالے، نرسیا آدم، اجیت نولے، سابق جسٹس بی جے کولسے پاٹل، سابق ممبر پارلیمنٹ کمار کیتکر، ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری سابق ایم ایل اے موہن جوشی، جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت، رام کشن اوجھا، سماجی کارکن میدھا پاٹکر سمیت مختلف تنظیموں کے لیڈران و ہزاروں کسانوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بالاصاحب تھورات نے مزید کہا کہ مودی حکومت نے کسی سے صلاح ومشورہ کیے بغیر اکثریت کی بنیاد پر یہ سفاک قوانین منظور کیے ہیں۔ پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ کرنے والے ممبران پارلیمنٹ کو معطل کرکے قوانین منظور کیے گیے۔ ان قوانین کے خلاف ملک بھر کے کسانوں میں زبردست غصہ ہے اور وہ ملک کے مختلف حصوں میں کسان ان قوانین کے خلاف سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں۔ ان قوانین کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ بازار سمیتیاں ختم ہونے والی ہیں، راشن کی دوکانیں بھی ختم ہوجائیں گی۔ یہ قوانین صرف دھنا سیٹھوں، سرمایہ داروں وذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے فائدے کے لیے ہیں، یہ رد ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے ان سیاہ قوانین کی کانگریس شروع سے ہی مخالفت کر رہی ہے اور مختلف احتجاجات کے ذریعے ان کی واپسی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ مہاراشٹر میں ٹریکٹر ریلی، کسان مہاورچیول ریلی، احتجاجات، مورچے، راج بھون کا گھیراؤ اور ملک بھر سے دو کروڑ کسانوں کے دستخط کے ساتھ صدر جمہوریہ کو میمورنڈم دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہمیشہ کسانوں، محنت کشوں ومزدوروں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ مہاراشٹر میں کسانوں کے مفاد پر مبنی قانون بنانے کے لیے مہاوکاس اگھاڑی پابندعہد ہے۔ اس تعلق سے ہماری بات چیت جاری ہے اوربہت جلد قانون بنایا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next