مہاراشٹر: سنجے راؤت کا اسکول کِٹ خریداری میں 400 کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام، وزیراعلیٰ سے تحقیقات کا مطالبہ

شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما سنجے راؤت نے پمپری چنچواڑ میونسپل کارپوریشن میں اسکول کِٹ خریداری میں 400 کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>سنجے راؤت / آئی اے این ایس</p></div>
i

ممبئی: شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما اور راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے مہاراشٹر کے پمپری چنچواڑ میونسپل کارپوریشن میں اسکول کِٹ کی خریداری کے معاملے میں 400 کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس سے فوری تحقیقات کرانے اور قصوروار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

سنجے راؤت نے آج 9 جولائی 2026 کو وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کو لکھے گئے ایک سرکاری مکتوب میں دعویٰ کیا کہ طلبہ کے لیے یونیفارم، سویٹر، موزے، برساتی اور اسکول بیگ کی خریداری کے دوران ریاستی قوانین کے مطابق لازمی ای ٹینڈرنگ پر عمل نہیں کیا گیا، بلکہ سپریم کورٹ کی ہدایات کو بھی نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے اس معاملے میں ایک سینئر کابینہ وزیر اور میونسپل کارپوریشن کے بعض افسران کے کردار کی جانچ کا مطالبہ کیا۔

مکتوب کے مطابق پمپری چنچواڑ کے متعدد مقامی عوامی نمائندوں نے سنجے راؤت سے ملاقات کرکے سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے لیے اسکول کِٹ کی خریداری میں بے ضابطگیوں سے آگاہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستی ضابطوں کے مطابق تین لاکھ روپے سے زائد کی ہر سرکاری خریداری ای ٹینڈرنگ کے ذریعے ہونی چاہیے، لیکن اس کے باوجود سولاپور کی جگدمبا ریڈی میڈ ڈریسز کوآپریٹو سوسائٹی کو بغیر کسی مسابقتی بولی کے براہ راست کروڑوں روپے کا ٹھیکہ دے دیا گیا۔


سنجے راؤت نے مزید الزام لگایا کہ یہ معاملہ پہلے سپریم کورٹ تک بھی پہنچ چکا تھا، جہاں اسکول کِٹ کی قیمت 239 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی تھی، لیکن پمپری چنچواڑ میونسپل کارپوریشن نے مبینہ طور پر 814 روپے فی یونٹ کی شرح سے خریداری کا معاہدہ کیا۔ ان کے مطابق اس سے ہر کِٹ پر 575 روپے کا اضافی بوجھ سرکاری خزانے پر پڑا، جس کے نتیجے میں مجموعی مالی نقصان تقریباً 400 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

انہوں نے اپنے مکتوب میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ ریاستی کابینہ کے ایک سینئر وزیر نے متعلقہ فرم کو بغیر ٹینڈر کے ٹھیکہ دلوانے کے لیے میونسپل کمشنر پر سیاسی دباؤ ڈالا۔ سنجے راؤت نے وزیراعظم نریندر مودی کے بدعنوانی مخالف نعرے ’’نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے معاملات میں کارروائی نہ ہوئی تو بدعنوانی کے خلاف حکومت کے دعوے سوالوں کے گھیرے میں آ جائیں گے۔

سنجے راؤت نے الزام عائد کیا کہ یہ دباؤ عوامی مفاد کے بجائے مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ڈالا گیا اور اس معاملے میں 50 سے 55 کروڑ روپے کی خطیر رقم بعض متعلقہ افراد تک پہنچنے کا شبہ ہے۔ انہوں نے بچوں کے لیے تعلیمی سامان کی خریداری میں مبینہ بدعنوانی کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عوام کے ٹیکس کا پیسہ ضائع ہوا اور تعلیمی نظام کی شفافیت پر بھی سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔

اپنے مکتوب کے اختتام پر سنجے راؤت نے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ طور پر ملوث وزیر اور افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ان کے بقول وزیراعلیٰ دفتر کو فراہم کیے گئے تمام دستاویزی شواہد کی بنیاد پر حقیقت عوام کے سامنے لائی جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔