مودی حکومت کی 12 سالہ کارکردگی پر سنجے راؤت کا حملہ، بی جے پی کو ’بے شرم پارٹی‘ قرار دیا

شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما سنجے راؤت نے مودی حکومت کے 12 سال مکمل ہونے پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے عوامی فلاح، آئینی اداروں کی حالت اور جمہوریت کے مستقبل پر سوالات اٹھائے

<div class="paragraphs"><p>سنجے راؤت / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

نئی دہلی: شیو سینا (یو بی ٹی) کے سینئر رہنما سنجے راؤت نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے 12 سال مکمل ہونے پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ اس طویل مدت میں عوام کے لیے کیا کام کیا گیا؟ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ’بے شرم پارٹی‘ قرار دیتے ہوئے حکومت کی کارکردگی اور پالیسیوں پر کئی سوالات اٹھائے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ حکمراں جماعت اپنی حکومت کے 12 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہی ہے لیکن عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان برسوں میں ان کی زندگیوں میں کیا بہتری آئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی کامیابیوں کا دعویٰ کرتی ہے، مگر وزیر اعظم نریندر مودی نے آج تک ایک بھی باضابطہ پریس کانفرنس کر کے عوام اور صحافیوں کے سوالات کا سامنا نہیں کیا۔

سنجے راؤت نے حکومت کا موازنہ پنڈت جواہر لال نہرو کے دور سے کیے جانے پر بھی اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے ملک کی تعمیر، اداروں کے استحکام اور جمہوری نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ نہرو کے دور میں آئینی اداروں کو مضبوط بنایا گیا، جبکہ موجودہ حکومت پر ان اداروں کو کمزور کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک پنڈت جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی جیسے رہنماؤں کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق اندرا گاندھی نے ملک کی سلامتی اور یکجہتی کے لیے قربانی دی اور ان کی خدمات تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔


وزیر اعظم نریندر مودی کے حوالے سے سنجے راؤت نے کہا کہ انہوں نے ماضی میں 75 برس کی عمر کے بعد عہدہ چھوڑنے کی بات کہی تھی، لیکن اب اس اصول پر عمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ہر چیز کی عمر بڑھتی ہے اور سیاسی قیادت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔

مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے اندرونی اختلافات سے متعلق سوال پر سنجے راؤت نے کہا کہ اگر کسی شخص کے دل میں بے وفائی یا بددیانتی پیدا ہو جائے تو اسے روکنا مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ممتا بنرجی کو واضح پیغام دینا چاہیے کہ جو پارٹی کے ساتھ رہنا چاہتا ہے وہ رہے اور جو جانا چاہتا ہے وہ جا سکتا ہے۔

انڈیا اتحاد کے مستقبل کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے سنجے راؤت نے اعتماد ظاہر کیا کہ اپوزیشن اتحاد آنے والے دنوں میں بہتر کارکردگی دکھائے گا اور عوام کے درمیان اپنی موجودگی مزید مضبوط کرے گا۔

انہوں نے مہاراشٹر حکومت کے وزیر گریش مہاجن کے ایک بیان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اندرا گاندھی کی قربانی اور آپریشن بلیو اسٹار سے متعلق متنازع تبصرے ملک کے لیے افسوس ناک ہیں۔ سنجے راؤت نے کہا کہ وہ اس معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو خط بھی لکھیں گے۔


سنجے راؤت نے راجیش مہتا سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ لاکھوں کروڑ روپے کے ایک بڑے گھوٹالے پر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسی نوعیت کے معاملے میں کسی اپوزیشن رہنما کا نام سامنے آتا تو بڑے پیمانے پر سیاسی ہنگامہ کھڑا ہو جاتا، لیکن موجودہ معاملے میں خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔