’ایل آئی سی اتنے بڑے گھوٹالہ کو کیسے نہیں پکڑ سکی؟‘ راجیش ایکسپورٹس معاملہ پر کانگریس کا تلخ سوال

کانگریس کے مطابق سیبی نے عبوری رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ مالی سال 21-2020 سے 25-2024 تک 5 برسوں کے دوران راجیش ایکسپورٹس نے اپنی آمدنی (ریونیو) کے اعداد و شمار کو مبینہ طور پر غلط طریقے سے پیش کیا۔

<div class="paragraphs"><p>ایل آئی سی، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے سونے کی ریفائننگ اور زیورات کے کاروبار سے وابستہ مشہور کمپنی راجیش ایکسپورٹس کے خلاف سامنے آئے مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے معاملے پر مودی حکومت اور سرکاری اداروں کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کی 3 جون 2026 کی عبوری رپورٹ میں کمپنی سے متعلق انتہائی سنگین انکشافات کیے گئے ہیں، جنہوں نے سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کے کردار پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

جئے رام رمیش کے مطابق سیبی نے اپنی عبوری رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ مالی سال 21-2020 سے 25-2024 تک 5 برسوں کے دوران راجیش ایکسپورٹس نے اپنی آمدنی (ریونیو) کے اعداد و شمار کو مبینہ طور پر غلط طریقے سے پیش کیا۔ کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں جس رقم کا ذکر کیا گیا ہے، وہ تقریباً 15 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے، جو ایک حیرت انگیز اور تشویش ناک معاملہ ہے۔


کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ اگرچہ سیبی کی تحقیقات ابھی جاری ہے اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے، لیکن ابتدائی نتائج ہی کئی اہم سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک کمپنی کا معاملہ نہیں بلکہ مالیاتی نگرانی کے پورے نظام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ کانگریس لیڈر نے خاص طور پر لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (ایل آئی سی) کے کردار پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ایل آئی سی کے پاس راجیش ایکسپورٹس میں تقریباً 10.8 فیصد حصص موجود ہیں، جو کسی بھی بڑی کمپنی میں ایک قابل ذکر سرمایہ کاری تصور کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف بینکوں کی بھی کمپنی میں نمایاں مالی شمولیت یا ایکسپوژر بتایا جا رہا ہے۔

جئے رام رمیش نے سوال کیا کہ اگر کمپنی میں اتنی بڑی سرکاری سرمایہ کاری موجود تھی تو پھر ایل آئی سی اس مبینہ بڑے مالیاتی فراڈ یا بے ضابطگی کو بروقت کیوں نہ پکڑ سکی۔ ان کے مطابق یہ بات مزید تشویش پیدا کرتی ہے کہ ایک ایسے ادارے، جو کروڑوں پالیسی ہولڈرز کے پیسے کا محافظ سمجھا جاتا ہے، نے مبینہ طور پر اتنی بڑی مالی بے ضابطگی کے اشاروں کو نظر انداز کیسے کر دیا۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا ایل آئی سی کی جانب سے راجیش ایکسپورٹس میں اتنی بڑی حصہ داری خریدنے کے پیچھے کوئی سیاسی دباؤ یا حکم موجود تھا؟ کانگریس لیڈر نے اشارہ دیا کہ اس معاملے میں حکمراں پارٹی کے ’ایکو سسٹم‘ کے ممکنہ کردار کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔


جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے میں شفافیت اور جوابدہی انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اس کا تعلق عوامی سرمائے، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مالیاتی اداروں کی ساکھ سے ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیبی کی تحقیقات کو مکمل آزادی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے اور اگر کسی بھی سطح پر بے ضابطگی یا سیاسی مداخلت سامنے آتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔