مہاراشٹر: مہا وکاس اگھاڑی حکومت کی دو سالہ کارکردگی پر عوام کا اظہارِ اطمینان

ریاست کے نوجوان طبقہ کا ماننا ہے کہ اگلے 3 سالوں میں تینوں جماعتوں کے اتحاد کو بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، رکے ہوئے اور نئے ترقیاتی پروجیکٹوں کو رفتار دینا حکومت کی اولین ترجیحات ہونی چاہیئں۔

مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کی فائل تصویر، آئی اے این ایس
مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کی فائل تصویر، آئی اے این ایس
user

محی الدین التمش

مہاراشٹر میں این سی پی کانگریس اور شیوسینا کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے دو سال کا عرصہ مکمل کر لیا ہے۔ کانگریس این سی پی کے ساتھ شیوسینا کا اتحاد، جسے مہا وکاس اگھاڑی کی تشکیل سے قبل تقریباً ناممکن تصور کیا جا رہا تھا، متضاد سیاسی فکر کے باوجود تینوں جماعتوں کے اتحاد نے دو سال کا عرصہ کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے۔ اس اتحاد نے بی جے پی کو حیران تو کیا ہی، ساتھ ہی ان سیاسی پنڈتوں کو بھی تعجب میں ڈال دیا جو یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ یہ اتحاد چند دنوں کا ہی مہمان ہے۔

ہم نے مہاوکاس اگھاڑی حکومت کی دو سالہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے مختلف میدان میں سرگرم عمل افراد سے ان کی رائے جاننے کی کوشیش کیں۔ ان میں سے اکثرنے مہاوکاس اگھاڑی سرکار کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

کووڈ کے دور میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ :

شیوسینا، این سی پی اور کانگریس کی اتحادی حکومت کی کارکردگی سے ریاست کی عوام مطمئن دکھائی دے رہی ہے۔ ممبئی یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات سے وابستہ پروفیسر مُردُل کا کہنا ہے کہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے دو سال کے عرصے میں اپنے آپ کو عوام دوست حکومت ثابت کیا ہے۔ کووڈ کے دور میں ادھو ٹھاکرے نے مثالی کام انجام دیا، جسے ریاست کے ہر شہری نے محسوس کیا ہے۔

جنوبی ممبئی کے گجراتی سماج کے اکثریتی علاقے میں رہائش پذیر ایجوکیشنل ٹریننگ کے کاروبار سے وابستہ ونیت اپادھیائے کا کہنا ہے کہ کووڈ کے شروعاتی دور میں ٹھاکرے سرکار نے کافی بہتر ین کام انجام دیا۔ ریاستی وزیر صحت راجیش ٹوپے نے بھی تن من سے ریاست کے عوام کی خدمت انجام دی۔ وزیر اعلیٰ نے ایک سرپرست کی حیثیت سے لوگوں سے رابطہ کیا، لیکن بعد کے وقت میں ریاستی حکومت کے لیے کووڈ کے حالات کو سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ جبکہ دوسری ریاستوں کے مقابلے میں مہاراشٹر میں سہولیات قدرے بہتر تھیں۔


ریاست میں امن و امان قائم رکھنے میں کامیابی :

بامبے ہائی کورٹ کے نوجوان وکیل ایڈوکیٹ مصدق مومن کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کو روز اول سے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ مرکزی ایجنسیوں نے بھی ریاستی حکومت کے وزراء پر شکنجہ کسنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس کے باوجود ریاستی حکومت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے میں ناکام ثابت ہوئیں۔ اختلافات کے باوجود باہمی اتحاد ریاستی حکومت کا خاصا رہا ہے۔ تینوں پارٹیوں کے اتحاد نے سیاسی رخ کو تبدیل کر دیا۔ ریاست کی مہاوکاس اگھاڑی سرکار نے مراٹھا ریزرویشن اور کووڈ جیسے اہم معاملات کو بہتر ڈھنگ سے سنبھالا اور بی جے پی کی تنقید کا بخوبی سامنا کیا لیکن دو سال کے عرصے میں پالیسی سازی اور فنڈ کی تقسیم خاطر خواہ انداز میں دکھائی نہیں دی۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ریاستی حکومت کو کووڈ کے حالات کی بدولت دیگر امور پر دھیان دینے کا موقع میسر نہ آیا ہو۔ ایڈوکیٹ مصدق کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر بند کے دوران پھوٹ پڑنے والے تشدد کے واقعات کو ہٹا کر دیکھا جائے تو اگھاڑی سرکار نے لاء اینڈ آرڈر کے معاملات کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ملک کی معروف قومی بینک میں اسسٹنٹ منیجر کے طور پر خدمت انجام دینے والے ندیم انصاری نے بھی لاء اینڈ آرڈر کے معاملے میں ریاست کی ٹھاکرے سرکار کی ستائش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہاوکاس اگھاڑی نے ریاست کے فرقہ وارانہ ماحول کو خراب ہونے سے بچایا اور ساتھ ہی امن و امان کی فضا کو مکدر ہونے سے بھی محفوظ رکھا۔

روزگار کے مواقع کی فراہمی:

ندیم انصاری کا کہنا ہے کہ کووڈ کے حالات کو ریاستی حکومت نے جس طرح سنبھالا ہے اس کی ستائش سپریم کورٹ نے بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دو سال کے عرصے میں خراب معاشی حالات کے باوجود تینوں پارٹیوں کی سرکار نے مختلف ممالک کی کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ کئی معاہدے کیے ہیں، جس کے چلتے ریاست کے سینکڑوں نوجوان روزگار سے منسلک ہوئے ہیں۔ اسکل ڈیولپمنٹ کی وزارت نے بھی نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کے لیے بہتر کام کیا ہے۔


اگلے تین سال مہاراشٹر وکاس اگھاڑی کے لیے اہم ترین :

ریاست کے نوجوان طبقہ کا ماننا ہے کہ اگلے تین سالوں میں تینوں جماعتوں کے اتحاد کو بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ رکے ہوئے اور نئے ترقیاتی پروجیکٹوں کو رفتار دینا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ روزگار کے مواقع کی فراہمی اور بدعنوانی کے بدنما داغ سے خود کو محفوظ رکھنا ہوگا۔

ممبئی یونیورسٹی میں شعبۂ سیاسیات سے وابستہ پروفیسر مُردُل کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کو اہم معاملات میں فیصلہ لینے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ اصلاحات اور قانون سازی کے معاملے میں حکومت کو جلد فیصلہ لینے کی ضرورت ہے۔

اقلیتی مسائل کو نظرانداز کرنے کا الزام :

سماج وادی پارٹی جو کہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کا حصہ ہے، نے مہاوکاس اگھاڑی پر مسلم مسائل سے چشم پوشی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے بھیونڈی سے رکن اسمبلی رئیس شیخ کا کہنا ہے کہ تین پارٹیوں کی سرکار نے دو سال کے عرصے میں سیکولرازم اور بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے نام پر مسلم سیاست کو بے محل کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دو سال کے عرصے میں شیوسینا کا ہندوتوا غالب دکھائی دیا جبکہ کانگریس این سی پی نے سرکار کو بچائے رکھنے کے فراق میں کئی محاذ پر سمجھوتہ کیا ہے۔


شیوسینا کا کانگریس اور این سی پی سے مضبوط اتحاد کا اشارہ :

روز اول سے بی جے پی اور دیگر سیاسی جانکار افراد نے مہاوکاس اگھاڑی اتحاد کو کمزور اتحاد قرار دیا۔ ان دو سالوں کے عرصے میں اس طرح کے تمام رجحانات باطل ثابت ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں کے واقعات کی روشنی میں شیو سینا نے کانگریس کے ساتھ آئندہ اتحاد پر بھی مہر ثبت کر دی ہے۔ یو پی اے کی قیادت کے معاملے میں شیو سینا نے اپنا اسٹینڈ صاف کر دیا ہے۔ ممبئی میں ممتا بنرجی اور دہلی میں راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد رکن پارلیمان اور شیو سینا ترجمان سنجے راؤت نے واضح کر دیا ہے کہ کانگریس کے بغیر یو پی اے اتحاد کا تصور ناممکن ہے۔ یاد رہے کہ ممتا بنرجی نے ممبئی میں شرد پوار سے ملاقات کے بعد کانگریس کی قیادت والے یو پی اے اتحاد پر سوال اٹھایا تھا، جبکہ شیو سینا نے اپنے اخبار ’سامنا‘ کے اداریہ میں ممتا بنرجی کو کھری کھوٹی سناتے ہوئے اس بات کا واضح اشارہ دے دیا ہے کہ قومی سیاست سے کانگریس کو دور رکھنا اور اس کے بغیر مرکزی سطح پر اپوزیشن پارٹیوں کا متوازی اتحاد تشکیل دینا برسراقتدار بی جے پی اور فاشسٹ طاقتوں کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ شیو سینا کے اس سیاسی اسٹینڈ سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے مہاراشٹر کے علاوہ قومی سیاست میں کانگریس اور شیو سینا دونوں جماعتیں آپسی اتحاد کو مضبوط کرنا چاہتی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔