مہاراشٹر میں ایک بار پھر لگ سکتا ہے لاک ڈاؤن، وزیر اعلیٰ کا اشارہ

وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے ریاست کے کووڈ ٹاسک فورس کے ممبر ڈاکٹر ششانک جوشی اور راہل پنڈت کے ساتھ ہفتہ کو ایک میٹنگ میں اس طرح کا اشارہ دینے ہوئے عندیہ ظاہر کیا کہ لاک ڈاؤن دوبارہ ہونا چاہیے

ادھو ٹھاکرے، تصویر سوشل میڈیا
ادھو ٹھاکرے، تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ممبئی: ریاست میں ابھی تک کورونا وبا کو قابو نہیں کیا جاسکا۔ لہذا ، وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے واضح کیا ہے کہ ریاست میں لاک ڈاؤن کو فوری طور پر نہیں ہٹایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ریاست میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن ہٹانے کے لئے کوئی جلدی نہیں ہے۔ وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے ریاست کے کووڈ ٹاسک فورس کے ممبر ڈاکٹر ششانک جوشی اور راہل پنڈت کے ساتھ ہفتہ کو ایک میٹنگ میں اس طرح کا اشارہ دینے ہوئے عندیہ ظاہر کیا کہ لاک ڈاؤن دوبارہ ہونا چاہیے۔

وزیر اعلی نے کہا کہ کورونا وائرس کا انفیکشن بزرگ شہریوں اور بچوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ شہریوں میں غلط فہمی ہے۔ ریاست ہائے متحدہ میں اسکول شروع ہونے کے بعد 97000 بچے کورونا سے متاثر ہوئے اس حقیقت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ کورونا کسی کو بھی ہوسکتا ہے۔ چھ ماہ کے بچے سے لے کر یہ کسی بھی عمر میں کسی کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔


یہ مہاراشٹر میں کورونا کی پہلی لہر ہے۔ لہذا کسی بھی حالت میں ایک اور لہر کو آنے نہیں دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فی الحال دوسری لہر کو کس طرح روک سکتے ہیں اس کی تیاری کر رہے ہیں۔ کورونا وائرس کا سب سے زیادہ نقصان غریبوں کو ہوا ہے۔ اگر اسکول شروع ہوتے ہیں اور اسکول میں کورونا انفیکشن پھیلتا ہے یا اگر دفتروں کو شروع کیا جائے اور وہاں کورونا انفیکشن پھیل جاتا ہے تو پھر آپ کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہوگا۔ لہذا ہم پورے لاک ڈاؤن کو کھولنے کے بجائے، مشن بیگن کے تحت مراحل میں آہستہ آہستہ چھوٹ دینے (ان لاک) کا عمل شروع کر رہے ہیں۔

ریاست میں ہفتے کے روز 322 کورونا متاثرین کی موت ہوگئی اور 12 ہزار 614 نئے مریضوں کی تشخیص کی گئی ہے۔ اسی دوران گزشتہ روز 6844 مریضوں کو اسپتال سے شفایاب ہونے کے بعد گھروں کو روانہ کیا گیا۔ ریاست میں مریضوں کی کل تعداد چھ لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس وقت ریاست میں 1 لاکھ 56 ہزار 409 مریض (فعال مریض) زیرِ علاج ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔