مہاراشٹرا: متعدد راہنماؤں کے حفاظتی گھیرے کو ختم یا کم کرنے سے تلملائی بی جے پی

کانگریس کے ترجمان سچن ساونت نے کہا کہ گاندھی خاندان اور منموہن سنگھ کی سیکورٹی کم ہونے پر خوشی منانے والی بی جے پی کی چیخ پکار چہ معنی دارد!

سچن ساونت، تصویر آئی اے این ایس
سچن ساونت، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ممبئی: مہاراشٹرا میں نہایت ہی اہم شخصیات ( وی وی آئی پی) کو مہیا کی جانے والی ایکس، وائی اور زیڈ پلس بشمول دیگر تمام زمرہ کی حفاظتی ڈھال ( سیکورٹی کور) کو ازسرنو ترتیب دے کر اس میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ریاستی وی وی آئی پی سیکورٹی کے سالانہ جائزہ کے بعد مہا وکاس اگھاڑی حکومت نے بہت سی اہم شخصیات کے حفاظتی ڈھال کے زمروں میں تبدیلی کر کے یا تو اسے کم کر دیا ہے یا مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ جبکہ سینئر رہنما اور راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے صدر شرد پوار کی خواہش پر آج اتوار کو ان کے حفاظتی گھیرے میں کمی کی گئی ہے۔

حزب اختلاف کے قائد اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس اور پروین ڈیریکر سمیت متعدد رہنماؤں کے حفاظتی گھیرے کو کم کردیا گیا ہے جبکہ ریاستی بی جے پی صدر چندرکانت پاٹل سمیت دیگر رہنماؤں کو دی جانے والی سیکورٹی کو واپس لے لیا گیا ہے۔ اس ضمن میں جیسے ہی بی جے پی نے گریہ و زاری شروع کی تو شرد پوار نے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ سے درخواست کی کہ وہ ان کے حفاظتی گھیرے کو کم کر دیں۔

اپنی سیکورٹی واپس لیے جانے سے ناراض سابق وزیر اور بی جے پی کے سینئر رہنما سدھیر منگینٹیور نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "مجھے سیکورٹی اس لئے دی گئی تھی کہ میں ماؤنواز زدہ ضلع سے ہوں۔ اسے واپس لے لیا گیا ہے، لہذا ایسا لگتا ہے کہ ماؤنواز سرگرمیاں ختم ہوگئیں۔ لیکن (حکومت) کو عام عوام کی سلامتی کو یقینی بنانا ہوگا۔"

کانگریس کے ترجمان سچن ساونت نے سوال کیا کہ اگر بی جے پی قائدین کو لاحق خطرات کی کمی کے باعث ان کے حفاظتی گھیرے کو کم یا ہٹا دیا گیا ہے تو وہ کیوں چیخیں مار رہے ہیں۔ "اگرچہ گاندھی خاندان اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو دھمکیوں اور خطرات کا سامنا ہے اس کے باوجود بی جے پی نے صریحاً ان کے حفاظتی انتظامات کو کم کردیا تھا اور اس پر بی جے پی کے لوگوں نے خوشی منائی… لیکن مہا وکاس اگھاڑی حکومت اس طرح کا رویہ اختیار نہیں کرتی ہے ۔" اسی طرح دیشمکھ اور دیگر کانگریسی رہنماؤں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ 2014 کے آخر میں اقتدار میں آنے کے فوراً بعد فڈنویس نے شرد پوار اور اشوک چوہان سمیت متعدد رہنماؤں کی سیکورٹی کو کم کردیا تھا۔

نئے اقدامات کے تحت جن اہم شخصیات کی سیکورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے ان میں معروف وکیل اُجوال نکم کو وائی پلس سے زیڈ (معہ محافظ دستہ)، اور بالی ووڈ اداکار شتروگھن سنہا کو وائی پلس سے وائی پلس (معہ محافظ دستہ) کے حفاظتی ڈھال مہیا کی گئی ہے۔ اسی طرح جن شخصیات کو پہلی بار یہ حفاظتی ڈھال مہیا کی گئی ہے ان میں مہاراشٹر لیجسلیٹو کونسل کے چیئرمین رام راجے نمبالکر (وائی پلس معہ محافظ دستہ)، کانگریس کے وزیر وجے وڈیٹیور (وائی پلس اور ممبئی میں معہ محافظ دستہ)، ان کے علاوہ وزراء سندیپن اے بھومری،عبد النبی ستار، دلیپ والسے پاٹل اور سنیل کیدار کو وائی سطح کی سیکورٹی دی گئی ہے۔ اسی طرح شیوسینا کے ممبر اسمبلی واہاب وی نائک کو ایکس سیکورٹی ملی ہے۔

جن شخصیات کے حفاظتی گھیرے کے زمروں میں تبدیلی کر کے کم کیا گیا ہے ان میں نمایاں نام سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی قائد فڈنویس شامل ہیں، فڈنویس کی حفاظت زیڈ پلس سے وائی پلس (معہ محافظ دستہ)، ان کی اہلیہ امروتہ اور ان کی دختر دیویجا فڈنویس کی وائی پلس (معہ محافظ دستہ) سے تخفیف کر کے انھیں اب ایکس سیکیورٹی مہیا کی گی ہے۔ اسی طرح ایم این ایس کے صدر راج ٹھاکرے کو زیڈ سے وائی پلس (معہ محافظ دستہ)، سابق جسٹس ایم ایل تحیلیانی کو زیڈ سے وائی، مرکزی وزیر مملکت برائے سماجی انصاف رام داس اٹھولے کو وائی پلس (معہ محافظ دستہ) کے بجائے صرف وائی پلس، اور ممبئی دھماکوں کے مقدمے کے جج جی اے سانپ کی سیکورٹی کو زیڈ سے کم کر کے وائی کر دی گیا ہے۔ اتر پردیش کے سابق گورنر رام نائک اور سابق وزرا دیپک کیسرکار کے زمروں کو کم کر کے اب انھیں وائی پلس سے وائی کردیا گیا ہے۔

اپنے حفاظتی گھیرے سے محروم ہونے والوں کی فہرست میں امبریش راؤ اترم، ریاست بی جے پی کے سربراہ چندرکانت پاٹل اور سنجے بنسوڈ مرکزی وزیر راؤصاحب دانوے، سابق وزیر اعلی نارائن رانے، سابق وزیر سدھیر منگینٹیور اور آر وی، راجکمار بڈول اور سابق اسپیکر ہریبہاؤ بگڑے شامل ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


پسندیدہ ترین
next