مہاکمبھ بھگدڑ معاملہ: الٰہ آباد ہائی کورٹ کا متاثرہ خاندان کو 30 دنوں میں معاوضہ دینے کا حکم

عدالت نے واضح طور پر کہا ہے کہ متوفیہ کے شوہر کو 30 دنوں کے اندر معاوضہ کی ادائیگی کی جائے۔ جانچ کمیشن کی حتمی رپورٹ آنے تک ادائیگی روکنے کی ریاستی حکومت کی دلیل ناقابل قبول ہے۔

<div class="paragraphs"><p>الٰہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے مہاکمبھ 2025 کے دوران سنگم علاقہ میں ہونے والی بھگدڑ میں جان گنوانے والی ایک خاتوں کے اہل خانہ کو راحت دیتے ہوئے ریاستی حکومت کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت نے واضح طور پر کہا ہے کہ متوفیہ کے شوہر کو 30 دنوں کے اندر معاوضہ کی ادائیگی کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کر دیا کہ جانچ کمیشن کی حتمی رپورٹ آنے تک ادائیگی روکنے کی ریاستی حکومت کی دلیل ناقابل قبول ہے۔

جسٹس اجیت کمار اور جسٹس سوروپما چترویدی کی ڈویژن بنچ نے متوفیہ کے شوہر کے ذریعہ دائر معاوضے کے دعوے کو 30 دنوں کے اندر حتمی طور پر نمٹانے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے یہ وارننگ بھی دی ہے کہ اگر حکم پر عمل نہیں ہوا تو عدالت معاملے کو سنجیدگی سے لے گی۔ ساتھ ہی آئندہ سماعت پر تعمیلی رپورٹ بھی داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ 29 جنوری 2025 کی صبح سنگم علاقے میں ہونے والی بھگدڑ سے متعلق ہے، جس میں مبینہ طور پر 30 عقیدت مندوں کی موت ہو گئی تھی۔ یہ حادثہ ’اسنان‘ کے مقام پر بھاری بھیڑ کی وجہ سے ہوئی تھی۔


واضح رہے کہ 6 جون 2025 کو تعطیلاتی بنچ نے اترپردیش حکومت کو معاوضہ دینے میں تاخیر کے متعلق سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ عدالت نے ریاستی حکومت کے رویے کو ناقابل قبول اور شہریوں کی تکالیف کے تئیں بے حسی کا مظاہرہ قرار دیا تھا۔ عدالت نے تب بھی یہی کہا تھا کہ جب حکومت ایکس گریشیا رقم کا اعلان کر دیتی ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ بروقت اور باعزت ادائیگی کو یقینی بنائے۔

تازہ ترین سماعت 9 جنوری 2026 کو ہوئی، جس میں ریاستی حکومت کی جانب سے پیش ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل انوپ ترویدی نے بتایا کہ انکوائری کمیشن نے 17 دسمبر 2025 کو درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میلہ اتھارٹی کے ساتھ مل کر موت کی وجوہات کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ ریاست نے یہ بھی دلیل دی کہ وسیع تر عوامی مفاد میں تحقیقات کی آخری تاریخ بڑھا دی گئی ہے، کیونکہ کئی متاثرہ خاندان نے کمیشن سے تاخیر سے رابطہ کیا ہے۔


حالانکہ ڈویژن بنچ اس دلیل سے مطمئن نہیں ہوئی۔ عدالت نے کہا کہ 6 جون 2025 کے تفصیلی حکم نامے میں حکام کو ذاتی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایات بھی دی گئی تھیں۔ عدالت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر درخواست گزار کے معاوضے کے دعوے کو زیر التوا رکھنا مناسب نہیں ہے اور اسے جلد از جلد نمٹانا ضروری ہے۔ عدالت نے کمیشن اور میلہ اتھارٹی کو حکم دیا کہ 30 دن کے اندر معاوضے کے دعوے پر فیصلہ لے کر اگلی سماعت تک تعمیلی حلف نامہ داخل کیا جائے۔