مدھیہ پردیش: ریمڈیسیور انجیکشن کی بلیک مارکیٹنگ کے الزام میں تین افراد گرفتار

کھرگون کے پولیس سپرنٹنڈنٹ شیلیندر سنگھ چوہان نے بتایا کہ ساگر تامرکار، نشانت پٹیل اور دیپک جوگے کو دفعہ 188، ضروری اجناس ایکٹ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ اور وبائی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

کھرگون: مدھیہ پردیش کے ضلع کھرگون میں پولیس نے کورونا کے علاج میں اہم بتائے جانے والے ریمڈیسیور انجیکشن کی بلیک مارکیٹنگ کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ کھرگون کے پولیس سپرنٹنڈنٹ شیلیندر سنگھ چوہان نے کل بتایا کہ ساگر تامرکار، نشانت پٹیل اور دیپک جوگے کو دفعہ 188، ضروری اجناس ایکٹ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ اور وبائی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ساگر اپکاکمپنی میں میڈیکل ریپریزنٹیٹیو کے طور پر کام کرتا ہے اور نشانت کی مقامی رادھا ولّبھ مارکیٹ میں کھییل کے سامان کی دوکان ہے۔ انہیں انجیکشن دینے والا دیپک جوگے سول اسپتال کھرگون میں ٹھیکے پر فارماسسٹ کے عہدے پر کام کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دیپک کو انجیکشن مہیا کرانے والے اندور کے کچھ لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں، انہیں جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔ شیلیندر سنگھ چوہان نے بتایا کہ ریمڈیسیور انجیکشن فیراپِوِر ٹیبلیٹ اور آکسیجن سلنڈروں کی کالا بازاری روکنے کی سمت میں پولیس نے ہیلپ لائن نمبر جاری کیا تھا۔ اسی ہیلپ لائن نمبر پر کل اطلاع ملی تھی کی دو شخص فی انجیکشن پچاس ہزار روپے میں فروخت کر رہے ہیں۔


ایک پولیس کانسٹیبل کو کسٹمر بناکر کھرگون ضلع ہیڈ کوارٹر واقع پوسٹ آفس کے قریب ان کے پاس بھیجا گیا اور گرفتار کرلیا گیا۔ ان کے قبضے سے 2697 روپے قیمت کے ریمڈیک کمپنی کے تین ریمڈیسیور انجیکشن بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ ساگر اور نشانت کو دیپک 10 ہزار روپے کمیشن پر انجیکشن فروخت کرنے کے لئے دیتا تھا۔ وہ ان انجیکشنوں کو 50 ہزاروپے میں فروخت کرتے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔