مودی حکومت کورونا سے نمٹنے کے لیے پالیسی بنائے، کانگریس تعاون کو تیار: سونیا گاندھی

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کر مرکزی حکومت کو کورونا بحران سے نمٹنے کے کچھ طریقے بتائے ہیں۔ ساتھ ہی سبھی سیاسی پارٹیوں کے اتفاق سے پالیسی بنائے جانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان میں کورونا انفیکشن سے حالات دن بہ دن بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے مشکل ماحول میں کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کر مرکزی حکومت کو کورونا بحران سے نمٹنے کے کچھ طریقے بتائے ہیں۔ ساتھ ہی سبھی سیاسی پارٹیوں کے اتفاق سے کورونا سے متعلق پالیسی بنائے جانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ سبھی سیاسی پارٹیوں کے اتفاق سے کورونا سے نمٹنے کی پالیسی تیار کی جانی چاہیے تاکہ عوام کے لیے آسانیاں پیدا ہوں۔ ساتھ ہی سونیا گاندھی نے کہا کہ کانگریس پارٹی ملک کو کورونا سے بچانے کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے ہر قدم میں ساتھ دے گی۔

سونیا گاندھی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’کورونا وبا کے اس چیلنجنگ وقت میں آپ کے اور آپ کی فیملی کی سیکورٹی اور اچھی صحت کی تمنا کرتی ہوں۔ وہ لاکھوں فیملی جنھوں نے اپنوں کو کھویا ہے، ان کے تئیں دل سے اپنی ہمدردی کا اظہار کرتی ہوں۔ ہمارا ملک اس وقت کورونا کی جان لیوا مصیبت کا سامنا کر رہا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں عوام کورونا کی زد میں آ رہے ہیں۔‘‘


سونیا گاندھی نے اپنی بات کو آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ ’’یہ بحران سبھی ملکی باشندوں کے لیے امتحان کی گھڑی ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر ایک دوسرے کا سہارا اور طاقت بننا ہے۔ ضروری ہونے پر ہی گھر سے نکلیں۔‘‘ سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’میں جانتی ہوں موجودہ حالات انسانیت کو ہلا دینے والے ہیں۔ کہیں آکسیجن کی کمی ہے، کہیں دوا کی قلت ہے، کہیں اسپتال میں بستر نہیں ہے۔‘‘

سونیا گاندھی نے مزید کہا کہ ’’حکومتوں کو جاگ جانے اور ذمہ داری نبھانے کا وقت ہے۔ مرکزی حکومت غریبوں کے بارے میں سوچے اور ہجرت روکنے کے لیے بحران ختم ہونے تک 6 ہزار روپے اکاؤنٹ میں ڈالے۔ کورونا ٹیسٹنگ بڑھائی جانی چاہیے۔ آکسیجن، دوا اور اسپتالوں کا جنگی سطح پر انتظام کیا جائے۔ مفت ٹیکہ کاری کا انتظام ہونا چاہیے۔ کورونا ٹیکے کی قیمت کا فرق ختم ہو۔ زندگی بچانے والی دواؤں کی کالابازاری بند کی جائے۔ میڈیکل آکسیجن کو اسپتالوں کو دینے کا فوراً انتظام کیا جائے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 01 May 2021, 3:40 PM