مدھیہ پردیش: کف سیرپ معاملے میں فارماسسٹ، بیوی اور بھتیجے کی درخواست ضمانت خارج
الزام ہے کہ فارماسسٹ نے ڈاکٹر کے ذریعہ تجویز کردہ ’نیکسٹرو۔ڈی ایم‘ دینے کے بجائے کولڈریف سیرپ دی۔ فروخت کا کوئی بل نہیں رکھا گیا اور ملزم نے 66 بوتلوں سمیت شواہد کو تباہ کرنے میں کردار ادا کیا۔

بھوپال : مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے زہریلے کولڈریف کف سیرپ معاملے میں ملزم فارماسسٹ اور ماہرامراض اطفال پروین سونی، ان کی اہلیہ جیوتی سونی اور بھتیجے کی طرف سے دائر باقاعدہ ضمانت عرضیوں کو خارج کردیا۔ عدالتی حکم کے مطابق جسٹس پرمود کمار اگروال کی بنچ نے کہا کہ معاملے کی سنگینی اور حالات کو دیکھتے ہوئے یہ قابل ضمانت دینے لائق معاملہ نہیں ہے۔ الزام ہے کہ فارماسسٹ نے ڈاکٹر کے ذریعہ تجویز کردہ ’نیکسٹرو۔ ڈی ایم‘ دینے کے بجائے کولڈریف سیرپ دی۔ فروخت کا کوئی بل نہیں رکھا گیا اور ملزم نے 66 بوتلوں سمیت شواہد کو تباہ کرنے میں کردار ادا کیا۔
عدالت نے فارماسسٹ کو ادویات کی محفوظ تقسیم، ریکارڈ رکھنے اورعوام کی حفاظت کے لیے ذمہ دار ٹیکنیکل کسٹوڈین قرار دیا۔ وہیں پروین سونی نے مبینہ طور پر بچوں کے لیے بغیر نسخے کے کولڈریف سیرپ دی جوغیر قانونی اور طبی طور پر ناقابل قبول ہے۔ اس نامناسب متبادل اور لائسنسنگ کے ضوابط کی خلاف ورزی مل کر اس سانحے کا باعث بنی۔ فیکٹری کے ذریعہ تیارسیرپ میں ڈائی تھیلین گلائیکول کی خطرناک مقدار پائی گئی جو بچوں کے گردے فیل ہونے اور 26 سے زائد بچوں کی موت کا باعث بنی۔ یہ واردات چھندواڑہ ضلع کے پراسیا کمیونٹی ہیلتھ سنٹر میں اگست اور اکتوبر 2025 کے درمیان ہوئی ۔ مدھیہ پردیش حکومت نے 4 اکتوبر 2025 کو اس سیرپ پر پابندی لگا دی تھی۔
استغاثہ نے کہا کہ فارماسسٹ اور ڈاکٹروں سمیت دیگر ملزمین مبینہ طور پر کمیشن اور منافع حاصل کر رہے تھے۔ صحت عامہ کے سنگین خطرے اور 26 سے زائد بچوں کی موت کے پیش نظر درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی۔ ملزمین 13 اکتوبر 2025 سے حراست میں ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ملزم کے خلاف بنیادی ثبوت مضبوط ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 105، 276، اور 238 (بی) کے ساتھ ساتھ منشیات اور کاسمیٹکس ایکٹ کی دفعہ 27 (اے) کے تحت جرم ثابت ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ صرف ضمانت سے متعلق ہے اور اس سے مقدمے کی مرکزی سماعت متاثر نہیں ہوگی۔ یہ فیصلہ 2025 کے کف سیرپ بحران کی تحقیقات کے درمیان سامنے آیا ہے، جس نے قومی سطح پر ادویات کی مینوفیکچرنگ، سپلائی اور نسخے میں ریگولیٹری ناکامیوں کو بے نقاب کیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔