مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حالت خراب، شیوراج نہیں ہوں گے چہرہ

مدھیہ پردیش میں اقتدار مخالف لہر سے پریشان بی جے پی کی دقتیں پارٹی صدر امت شاہ نے اور بڑھا دی ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ اس بار انتخابات شیوراج کے نام پر نہیں لڑے جائے گیں۔

مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حالت خراب ہے، اقتدار مخالف لہر ہر طرف نظر آرہی ہے، لہذا اب انتخابی چہرہ شیوراج نہیں ہوں گے اور کم از کم 130 موجودہ بی جے پی ممبران اسمبلی کے ٹکٹ کاٹے جائیں گے، اتنا ہی نہیں کانگریس کو کمزور سمجھنے کی بھول کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی، یہ پیغام کسی اور نے نہیں بلکہ پارٹی صدر امت شاہ نے مدھیہ پردیش میں بی جے پی کو دیا ہے۔

امت شاہ کے اس پیغام کے بعد پوری کی پوری مدھیہ پردیش بی جے پی میں کھلبلی مچ گئی ہے، لوگوں کو رجھانے کے فارمولے تلاش کئے جا رہے ہیں، اسی کے تحت وزیر اعلی شیوراج نے آناً فاناً ووٹروں کو راغب کرنے والے منصوبوں کے اعلانات کر ڈالے۔

دراصل بی جے پی کو اچھی طرح یہ احساس ہو گیا ہے کہ اب مدھیہ پردیش میں اس کی فتح کا امکان نہیں ہیں پھر بھی آخری کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اسی لیے گزشتہ کچھ ماہ میں بی جے پی صدر امت شاہ مسلسل مدھیہ پردیش کے دورے کر رہے ہیں۔ گزشتہ تین دوروں میں امت شاہ نے صاف پیغام دیا ہے کہ اس بار شیوراج کی جگہ، تنظیم کے نام پر انتخاب لڑا جائے گا، کیونکہ اس بار لڑائی کہیں زیادہ مشکل نظر آرہی ہے۔

ابھی دو دن قبل ہی منگل کے روز جبل پور کے بھیڑاگھاٹ میں امت شاہ کی موجودگی میں ہوئی میٹنگ میں انتخابات میں اپوزیشن کی طرف سے اٹھائے جانے والے مسائل کو لے کر بحث کی گئی، ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ نے صاف کہا کہ لوگ ناراض ہیں، اس وجہ سے تمام ایسے مسائل ختم کئے جائیں جسے اپوزیشن مدہ بنا سکتا ہے، انہوں نے کسانوں، تاجروں اور قبائلیوں کو خوش کرنے پر زور دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امت شاہ نے اشارہ دیا ہے کہ اس بار ان ممبران اسمبلی کو ٹکٹ نہیں ملے گا، جن کے جیتنے کے امکانات بہت کم ہیں ذرائع کے مطابق فی الحال ایسے کم از کم 130 بی جے پی ممبر اسمبلی ہیں جن اسمبلی حلقوں میں لوگوں کی ناراضگی ابھر کر سامنے آئی ہے۔ ساتھ ہی 4 مئی کو ہوئے کارکن کانفرنس میں امت شاہ نے صاف کر دیا تھا کہ ’’اس بار ایم پی میں بی جے پی کسی چہرے پر نہیں بلکہ تنظیم کے نام پر الیکشن لڑے گی‘‘۔

غور طلب ہے کہ یہ وہی شیوراج سنگھ چوہان ہیں جن کے نام پر بی جے پی نے 2009 اور 2013 کا انتخاب لڑا تھا اور کامیابی حاصل کی۔ ان پیغامات کے بعد شیوراج نے بھی ایک پروگرام میں یہ کہہ کر سب کو چونکا دیا تھا کہ ’’میری کرسی خالی ہے، جو چاہے وہ بیٹھ سکتا ہے‘‘۔ بحث یہ بھی جاری ہے کہ انتخابات سے پہلے یا تو شیوراج کو ہٹا دیا جائے گا یا پھر دو نائب وزیر اعلی بنا کر ایس سی-ایس ٹی اور قبائلیوں کو رجھایا جائےگا۔

گزشتہ سال آئی خبروں سے یہ پتہ چلا تھا کہ سنگھ کے سروے سے یہ اشارہ ملے ہیں کہ مدھیہ پردیش میں بی جے پی حکومت کے خلاف زبردست ناراضگی ہے، ساتھ ہی کانگریس نے جس طرح اپنی ٹیم کو کھڑا کیا، اس سے بی جے پی کے لئے مشکلیں اور بڑھ گئی ہیں۔

لیکن بی جے پی کے لئے سب سے بڑی وجہ اس کی اندرونی سیاست ہے جو مصیبت بنی ہوئی ہے، بی جے پی میں سب جانتے ہیں کہ شیوراج پارٹی کے کچھ منتخب رہنماؤں میں سے ایک ہیں جو اپنی محنت اور لگن سے کھڑے ہیں، ایسے میں اگر بی جے پی ان کی قیادت میں ایک بار پھر جیت گئی تو ان کا قد بہت بڑھ جائے گا، اگر سیاسی تناظر سے دیکھا جائے تو آنے والے دنوں میں مرکزی قیادت کے لئے شیوراج ایک چیلنج ہوں گے، اسی لئے امت شاہ نے ان کے نام پر نہیں بلکہ تنظیم کے نام پر الیکشن لڑنے کے پیغام دیئے ہیں۔

یوں تو سیاست غیر یقینی کھیل ہے، لیکن جس طرح مرکزی قیادت مدھیہ پردیش میں بی جے پی لیڈروں کا حوصلہ بڑھانے کے بجائے انہیں خوفزدہ کر رہی ہے، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ بی جے پی خود چاہتی ہے کہ وہ الیکشن ہار جائے اور اگر جیتے تو اس کا سہرا شیوراج کے سر نہ بندھے۔

سب سے زیادہ مقبول