لمپی وائرس: اتراکھنڈ میں 8 ہزار سے زائد گایوں میں علامات ظاہر، 150 مویشی ہلاک

مویشی پروری محکمہ کے سکریٹری بی وی آر سی پروشوتم کا کہنا ہے کہ ریاست کے آٹھ ہزار سے زائد مویشیوں میں لمپی وائرس کی علامتیں دیکھی گئی ہیں، جن میں سے 3200 مویشی صحت یاب ہو گئے ہیں۔

لمپی وائرس، علامتی تصویر آئی اے این ایس
لمپی وائرس، علامتی تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کچھ ریاستوں میں لمپی وائرس کا خطرہ تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے اور مویشیوں کی ہلاکتوں میں بھی اضافہ درج کیا جا رہا ہے۔ اتراکھنڈ میں اس وائرس کا قہر کچھ زیادہ ہی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ یہاں اب تک آٹھ ہزار سے زائد گایوں میں لمپی وائرس کی علامتیں ظاہر ہو چکی ہیں۔ بیشتر معاملے ہریدوار، دہرادون اور اودھم سنگھ نگر کے بتائے جا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں پہاڑی ضلع ٹہری میں بھی لمپی وائرس کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ بڑی تعداد میں گایوں پر لمپی وائرس کے حملے سے دودھ کی پیداوار پر اثر پڑ گیا ہے۔ لمپی وائرس کے پھیلاؤ میں تیز رفتاری کو دیکھتے ہوئے محکمہ مویشی پروری نے مویشی پروروں سے سبھی طرح کے احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔

موجودہ حالات سے متعلق مویشی پروری محکمہ کے سکریٹری بی وی آر سی پروشوتم کا کہنا ہے کہ ریاست کے آٹھ ہزار سے زائد مویشیوں میں لمپی وائرس کی علامتیں دیکھی گئی ہیں، جن میں سے 3200 مویشی صحت یاب ہو گئے ہیں۔ انھوں نے مزید پانچ ہزار گایوں میں لمپی وائرس کی علامات موجود ہونے کی بات کہی اور ساتھ ہی یہ اطلاع بھی دی کہ تقریباً 150 مویشی کی موت ہو چکی ہے۔ پروشوتم کا کہنا ہے کہ گایوں کے لمپی وائرس سے متاثر ہونے کے سبب دودھ پروڈکشن پر اثر پڑ رہا ہے، لیکن حالات کو قابو میں کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔


لمپی وائرس پر قابو پانے کے لیے ریاست بھر میں محکمہ مویشی پروری نے ٹیکہ کاری مہم چلانے کی ہدایت دی ہے۔ پہلے مرحلہ میں ہریدوار، دہرادون اور اودھم سنگھ نگر اضلاع کو شامل کیا گیا ہے جہاں لمپی وائرس کا سب سےزیادہ اثر دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ویکسین کا مناسب انتظام کیا جا رہا ہے تاکہ یہ بیماری دیگر مویشیوں میں نہ پھیلے۔ ساتھ ہی اتراکھنڈ کے سرحدی اضلاع ہریدوار، دہرادون اور اودھم سنگھ نگر میں زیادہ احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔