لکھنؤ: تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت کے 9 افراد عدالت سے باعزت بری

چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سشیل کماری نے سبھی کو الزامات سے بری کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ضمانت اور ذاتی مچلکے کے تعلق سے مرکزی حکومت کی جانب سے مناسب کارروائی کے بعد ہی انہیں فارغ کیا جائے گا۔

عدالت کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس
عدالت کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: یوپی کی راجدھانی لکھنؤ کی ایک عدالت نے تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے 9 غیر ملکی شہریوں کو ملک میں کورونا کے دور میں رہنما ہدایات کی خلاف ورزیوں کے الزمات میں درج مقدموں سے باعزت بری کر دیا۔ بری ہونے والے تمام افراد تھائی لینڈ کے رہائشی ہیں اور ان سبھی پر پینڈیمیک ایکٹ (وبا سے متعلق قانون) کی مختلف شقوں کے تحت گزشتہ سال مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سشیل کماری نے سبھی کو الزامات سے بری کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ضمانت اور ذاتی مچلکے کے تعلق سے مرکزی حکومت کی جانب سے مناسب کارروائی کے بعد ہی انہیں فارغ کیا جائے گا۔ جج نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ان کے خلاف ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا، جس کی بنیاد پر ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکے۔


عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ غیر ملکی شہری مرکزی حکومت کی کارروائی کے بعد ہی اپنا پاسپورٹ اور موبائل فون حاصل کر سکیں گے۔ بری ہونے والے غیر ملکیوں کی شناخت محمد مدالی، حسن پنچو، سیتھیپنگل مسیریپٹ، سورسکلامولسک، ارسین تھوما، روملی کول، عبد اللہ ممنگ، عبدالبصیر ادور بھائی اور اپادومباون موکتی کین کے طور پر ہوئی ہے، ان سبھی کا تعلق تھائی لینڈ سے ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔