لکھنؤ: کورونا متاثر والد کو آکسیجن سلنڈر کے ساتھ لے کر اسپتال در اسپتال بھٹکتا رہا بیٹا

بیٹے نے فون پر ڈاکٹروں سے منتیں بھی کیں، لیکن کہیں سے کوئی مدد نہیں ملی۔ جب آکسیجن سلنڈر ختم ہونے لگا، تو تال کٹورا واقع آکسیجن سنٹر سے موٹی رقم خرچ کر بیٹے نے والد کے لیے دوسرا آکسیجن سلنڈر خریدا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

کورونا کے بڑھتے قہر کے درمیان اتر پردیش کے حالات بھی دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ خصوصاً راجدھانی لکھنؤ کی حالت تو انتہائی ابتر ہے جہاں بڑی تعداد میں نئے کورونا کیسز سامنے آنے کے ساتھ ساتھ اموات کی تعداد میں بھی لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ اس دہشت والے ماحول میں لکھنؤ سے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جو رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔ خبروں کے مطابق 70 سالہ ایک کورونا متاثر مریض کو آکسیجن سلنڈر کے ساتھ لے کر ان کا بیٹا اسپتالوں کے چکر کاٹتا رہا لیکن کہیں بھی جگہ نہیں ملی۔ مجبور بیٹا اپنے والد کو واپس گھر لے آیا اور ان کی تیمارداری کر رہا ہے۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق لکھنؤ کے علی گنج میں رہنے والے بزرگ سشیل کمار شریواستو ذیابیطس اور بی پی کے مریض ہیں۔ بدھ کو انھیں اچانک سانس لینے میں دقت ہونے لگی۔ اہل خانہ انھیں فوراً ہی وویکانند اسپتال لے کر گئے۔ اس اسپتال میں بزرگ کا ریگولر علاج ہوتا ہے۔ لیکن ڈاکٹروں نے کووڈ-19 جانچ کے بغیر انھیں دیکھنے سے منع کر دیا۔ اس دوران بزرگ کا آکسیجن لیول گرتا رہا۔ باوجود اس کے اسپتال کے ڈاکٹر انھیں دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ پھر ٹو نیٹ مشین کے ذریعہ بزرگ کی کووڈ جانچ کی گئی جس میں وہ کورونا پازیٹو نکلے۔

بزرگ کے اہل خانہ نے انھیں اسپتال میں داخل کرنے کی بات کہی، لیکن ڈاکٹروں نے بستر نہ ہونے کا حوالہ دے کر دوسرے اسپتال جانے کو کہا۔ بیٹا آکسیجن سلنڈر کار میں رکھ کر بزرگ والد کو شہر کے ہر اسپتال میں علاج کے لیے گھومتا رہا۔ فون پر ڈاکٹروں سے منتیں بھی کیں، لیکن کہیں سے کوئی مدد نہیں ملی۔ اس دوران آکسیجن سلنڈر ختم ہونے لگا، پھر تال کٹورا واقع آکسیجن سنٹر سے موٹی رقم خرچ کر دوسرا آکسیجن سلنڈر خریدا۔

بزرگ کورونا مریض کے بیٹے آشیش شریواستو کا کہنا ہے کہ ان کے والد کو بدھ کی شام سے سانس لینے میں کافی دقت ہو رہی تھی۔ اس لیے وہ ریگولر چیک اَپ کے لیے وویکانند اسپتال لے کر گئے تھے۔ لیکن وہاں پر ڈاکٹروں نے انھیں بغیر کورونا جانچ کے دیکھنے سے منع کر دیا تھا۔ پھر ٹو نیٹ مشین کے ذریعہ فوراً دو گھنٹے میں والد کی رپورٹ آئی جو پازیٹو تھی۔ لیکن ان کا آکسیجن لیول گرتا رہا۔ اسپتال سے کہیں کوئی مدد نہ ملنے سے بازار سے دوسرا سلنڈر خرید کر لگایا۔ آشیش نے یہ بھی بتایا کہ ان کے والد کی حالت بہت خراب تھی۔ ڈاکٹروں سے درخواست کی گئی، لیکن وہ بستر نہ ہونے کا حوالہ دے کر ٹالتے رہے۔ مجبور بیٹے نے کہا کہ ’’فی الحال ہم گھر پر ہی ان کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ ضلع کے کئی اسپتال گئے لیکن کسی نے انھیں ایڈمٹ نہیں کیا۔ اس واقعہ نے پوری فیملی کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔