لکھنؤ: نسیم الدین، رام اچل راجبھر سمیت 5 کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ

خصوصی عدالت کے اسپیشل جج پون کمار رائے نے ریاست کی یوگی حکومت میں وزیر سواتی سنگھ اور ان کے کنبے کی خواتین کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے معاملے میں ان لوگوں کے خلالف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیے ہیں

نسیم الدین صدیقی
نسیم الدین صدیقی
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ:: اترپردیش میں لکھنؤ کی ایک خصوصی عدالت نے خواتین پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے ایک معاملے میں سابق وزیر اور بی ایس پی کے سابق لیڈر نسیم الدین صدیق سمیت 5 افراد کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا ہے۔ واضح رہے کہ نسیم الدین صدیقی بی ایس پی کو چھوڑ کر کانگریس کا دامن تھام چکے ہیں۔

ایم پی۔ایم ایل اے کورٹ کے اسپیشل جج پون کمار رائے نے ریاست کی یوگی حکومت میں وزیر سواتی سنگھ اور ان کے کنبے کی خواتین کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے معاملے میں نسیم الدین صدیق، رام اچل راج بھر، اتر سنگھ میوالال گوتم اور نوشاد علی کے خلالف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا ہے سبھی کے خلاف 22 جولائی 2016 کو حضرت گنج تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔

عدالت نے کہا ہے کہ عرضی دیکھنے سے پتہ چلا ہے کہ کسی بھی ملزم نے ابھی تک اس معاملے میں اپنی ضمانت نہیں کرائی ہے جبکہ ملزمین کی جانب سے ان کی حاضری معافی کی عرضی دی جاتی رہی ہے جسے عدالت غلط مانتی ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت چھ اکتوبر کو ہوگی۔

واضح رہے کہ 22 جولائی 2016 کو وزیر سواتی سنگھ کی ساس تیترا دیوی نے حضرت گنج تھانہ میں ایک رپورٹ درج کرائی تھی کہ راجیہ سبھا میں بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے انہیں، ان کی بیٹی، بہو، ناتن سمیت پورے ایوان کے سامنے گالیاں دیں۔ 21 جولائی کو، مایاوتی کی کال پر نسیم الدین صدیقی، رام اچل راجبھر، میولاال وغیرہ کی سربراہی میں ہجوم جمع ہوا اور ان کے بیٹے کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ کنبہ کی خواتین کو گالیاں دیں۔

next