دہلی میں پھر لاک ڈاؤن کی تیاری! شادی میں مہمانوں کی تعداد بھی 50 ہوگی، مرکز کو بھیجی تجویز

میڈیا رپورٹ کے مطابق دہلی میں کورونا کے معاملات بڑھنے کی صورت میں محدود لاک ڈاؤن نافذ کیا جا سکتا ہے اور اس حوالہ سے مرکزی حکومت کو تجویز بھی پیش کی جا چکی ہے۔

اروند کیجریوال، تصویر عآپ
اروند کیجریوال، تصویر عآپ
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کورونا کے بڑھتے معاملوں کے درمیان دہلی حکومت میں وزیر صحت ستیندر جین کے ذریعہ دارالحکومت میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیے جانے کے امکان کو خارج کیے جانے کے ایک روز بعد ہی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال دہلی میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے بارے میں غور و غوض کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ دہلی کے سابق وزیر و کانگریس کے سینئر لیڈر اجے ماکن دہلی میں کورونا کی خوفناک صورت حال کے پیش نظر لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی اپیل کر چکے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق دہلی میں کورونا کے معاملات بڑھنے کی صورت میں محدود لاک ڈاؤن نافذ کیا جا سکتا ہے اور اس حوالہ سے مرکزی حکومت کو تجویز بھی پیش کی جا چکی ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے منگل کے روز کہا کہ ضرورت پڑی تو دہلی حکومت ان بازاروں کو کچھ دنوں کے لئے بند کر سکتی ہے جہاں اصولوں پر عمل نہیں ہو رہا ہے اور جو کووڈ-19 کے مقامی ہاٹ اسپاٹ بنتے جا رہے ہیں۔

علاوہ ازیں شادی میں مہمانوں کی تعداد بھی 200 سے 50 تک محدود کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے حوالہ سے بھی تجویز لیفٹیننٹ گورنر کو بھیجی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ دہلی حکومت، مرکز اور تمام ایجنسیاں دہلی میں کورونا کی صورت حال کو قابو میں کرنے کے لئے ’دوگنی کوشش‘ کر رہے ہیں۔ اسی سلسلہ میں نیم فوجی دستوں کے 75 ڈاکٹر اور 250 طبی اہلکار بھی دہلی میں تعینات کیے گئے ہیں جو کورونا سے لڑنے کے لئے میڈیکل اسٹاف کی مدد کریں گے۔

قبل ازیں، دہلی میں کورونا کے 8593 کیسز سامنے آنے کے بعد اجے ماکن نے ٹوئٹ کر کے کہا تھا، ’اروند کیجریوال جی دہلی میں فوراً لاک ڈاؤن لگاؤ۔ دہلی میں کورونا کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ کے 8593 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ ہم دیوالی نہ منائیں، کہیں یہ دیوالی ہزاروں (یا لاکھ سے زیادہ) لوگوں کی آخری دیوالی ثابت نہ ہو۔ برائے مہربانی یہ ایک ہنگامی صورتحال ہے‘۔

تاہم دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے لاک ڈاؤن نافذ کیے جانے سے انکار کیا تھا۔ ستیندر جین کا کہنا ہے کہ جب لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا تو ہم سیکھنے کے عمل میں تھے۔ اس لاک ڈاؤن سے سیکھے گئے سبق سے فائدہ اٹھانا ہے، ماسک کو لازمی طور پر لگانا ہے۔ سب سے کم متاثر اسپتال کا عملہ ہے، کیونکہ وہ سیکورٹی کا انتظام کر رہے ہیں۔ اس لیے لاک ڈاؤن کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جین نے کہا کہ دہلی میں کورونا کی تیسری لہر اپنی اعلی سطح سے تجاوز کر گئی ہے۔ دہلی میں پہلی لہر جون میں تھی، دوسری ستمبر میں اور تیسری لہر جاچکی ہے۔ مثبت شرح 15 فیصد تھی، یہ دوبارہ نہیں آئے گی۔ آج میں کہہ سکتا ہوں کہ تیسری لہر جا چکی ہے۔

ستیندر جین نے کہا کہ جو لوگ ماسک نہیں لگاتے اور جو معاشرتی فاصلہ نہیں رکھتے ہیں ان کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔ گزشتہ دنوں 45 کروڑ چالان کیے جاچکے ہیں۔ دہلی میں مارکیٹ بند کرنے کے سوال پر جین نے کہا کہ اس سلسلے میں کوئی جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔ اب فیسٹیول جاچکا ہے۔ بھیڑ کم ہوجائے گی۔ پھر بھی احتیاط کے طور پر ماسک لگانے کی ضرورت ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next