لاک ڈاؤن نے بحران کا سامنا کر رہے ’پارلے-جی بسکٹ‘ کو بخشی نئی زندگی

سال 1938 میں قائم پارلے کمپنی کے ذریعہ تیار بسکٹ پارلے-جی کی خرید میں کورونا بحران کے دوران اضافہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن سے نبرد آزما لوگوں نے بڑے پیمانے پر اس کا استعمال کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

گزشتہ کئی سالوں سے زبردست بحران کا سامنا کر رہی کمپنی پارلے جی میں پچھلے سال بڑے پیمانے پر چھنٹنی کا فیصلہ لیا گیا تھا، لیکن کورونا وبا کی وجہ سے نافذ لاک ڈاؤن اس کمپنی کے لیے بڑی نعمت ثابت ہوئی ہے۔ کمپنی کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران اس کے بسکٹ کی خرید گزشتہ 8 دہائیوں کے ٹاپ پر جا پہنچی ہے۔ حالانکہ کمپنی نے بسکٹ کی خریداری کے تعلق سے کوئی واضح اعداد و شمار تو نہیں پیش کیا ہے، لیکن یہ اعلان ضرور کیا ہے کہ مارچ، اپریل اور مئی کے مہینے میں کمپنی کے پروڈکٹس کی سیل 8 دہائیوں میں سب سے زیادہ رہی ہے۔

پارلے جی کے لیے یہ اضافہ اس لیے بھی خاص اور بے حد اہم ہے کیونکہ طویل مدت سے کمزور ہوتی طلب کے سبب کمپنی نے گزشتہ سال بڑے پیمانے پر ملازموں کو ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ اس کی خرید میں گزشتہ کچھ سالوں میں بہت زیادہ گراوٹ آئی ہے۔ ایسے میں کمپنی کو کچھ سخت فیصلے لینے پڑ رہے ہیں۔ چھنٹنی کے ساتھ ہی کمپنی نے اپنی کئی فیکٹریوں کو لے کر بھی سخت فیصلہ لینے کا منصوبہ بنایا تھا۔ لیکن کورونا بحران کے سبب لاک ڈاؤن میں پارلے جی بسکٹ کی خریداری بہت زیادہ ہوئی ہے۔

دراصل سال 1938 میں قائم پارلے جی بسکٹ کی خریداری میں کورونا بحران کے دوران اتنے بڑے پیمانے پر اضافہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران معاشی بحران سے نبرد آزما غریب طبقہ نے اس کا استعمال بہت زیادہ کیا۔ سستا اور آسانی کے ساتھ دستیاب ہونے کی سبب عام اور غریب لوگوں نے اپنی بھوک مٹانے کے لیے اس بسکٹ کو سب سے زیادہ کھایا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پارلے جی بسکٹ کی خریداری میں اضافہ کی ایک اور اہم وجہ مہاجر مزدوروں کو بانٹی گئی راحتی اشیائ میں اس کا شامل ہونا بھی رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے سبب پورے ملک میں پھنسے کروڑوں مہاجر مزدوروں کی راحت کےلیے خریدے گئے سامانوں میں پارلے جی ضرور شامل ہوتا تھا۔ سستا اور مقوی ہونے کے سبب زیادہ تر راحتی سامان تقسیم کرنے والوں نے اس بسکٹ کو ضرور تقسیم کیا۔ اس وجہ سے پورے ملک میں بڑے پیمانے پر اس بسکٹ کی خریداری ہوئی۔

ایف ایم سی جی سیکٹر کے ماہرین کے مطابق پارلے جی کی طلب میں اضافہ کا سبب اس کے ایک پیکٹ کی قیمت محض 5 روپے ہونا ہے۔ پارلے جی بسکٹ بنانے والی کمپنی پارلے پروڈکٹس کے مینک شاہ نے بتایا کہ ان تین مہینوں کے دوران کمپنی کے گروتھ میں 80 سے 90 فیصد تک شراکت داری پارلے جی بسکٹ کی رہی ہے۔ شاہ نے بھی اعتراف کیا کہ یہ گروتھ حیرت انگیز ہے۔ شاہ نے کہا کہ یہ عام آدمی کا بسکٹ ہے، جو لوگ بریڈ بٹر نہیں خرید سکتے، وہ پارلے جی خرید سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کئی ریاستی حکومتوں اور این جی او نے بھی بڑے پیمانے پر پارلے جی بسکٹ کی خرید کی ہے۔

اس دوران پارلے جی کے علاوہ دیگر بسکٹ کی خریداری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تمام مشہور بسکٹ برانڈ سمیت پارلے جی گروپ کے ہی دیگر بسکٹ کی خریداری میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ حالانکہ اس دوران ہر کمپنی کی سستی قیمتوں والے بسکٹ کی خریداری میں زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران غریبوں و مزدوروں کے سامنے کس طرح کی معاشی پریشانی تھی۔ ایسے وقت میں پارلے جی جیسا سستا بسکٹ لاکھوں لوگوں کا سہارا بنا۔

Published: 10 Jun 2020, 10:10 AM