لاک ڈاؤن-2 سے بھی غریبوں کی ہی زندگی ہوگی محال، اپوزیشن پی ایم مودی سے نالاں

ہندوستان میں اب 3 مئی تک لاک ڈاؤن نافذ رہے گا۔ پی ایم مودی کے اس فیصلے کی کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے تعریف تو کی لیکن معاشی پیکیج کا اعلان نہ کیے جانے پر سوال کھڑے کیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پی ایم مودی نے ملک کے نام اپنے تازہ خطاب میں لاک ڈاؤن پارٹ-2 کا اعلان کر دیا۔ پی ایم مودی نے 3 مئی تک کے لیے لاک ڈاؤن کی مدت بڑھا دی۔ انھوں نے کہا کہ 3 مئی تک ہم سبھی کو، ملک کے ہر باشندے کو لاک ڈاؤن میں ہی رہنا ہوگا۔ پی ایم مودی کے اس خطاب کے بعد کانگریس لیڈر ابھشیک منو سنگھوی نے اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’پی ایم مودی کا خطاب بیان بازی ہے، باریکی سے دیکھا جائے تو یہ بالکل کھوکھلا ہے۔ کوئی معاشی پیکیج کا اعلان نہیں ہوا، نہ تو غریبوں کے لیے اور نہ ہی متوسط طبقہ کے لیے۔‘‘

ابھشیک منو سنگھوی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ "پی ایم کی تقریر ترغیب دینے والی تھی، لیکن کسی معاشی پیکیج کا اعلان نہیں، کوئی صحیح جانکاری نہیں۔ نہ ہی غریب، نہ ہی متوسط طبقہ اور نہ ہی کاروباریوں کے لیے کچھ اعلان کیا گیا۔ لاک ڈاؤن درست ہے، لیکن لوگوں کی روز مرہ کی زندگی کا کیا۔"

کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے بھی پی ایم مودی کے خطاب کے بعد اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ انھوں نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غریبوں کو خود کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ "ہم پی ایم کے نئے سال کی مبارکباد لیتے ہیں۔ ہم لاک ڈاؤن کی توسیع کرنے کی مجبور کو سمجھتے ہیں۔ ہم فیصلے کی حمایت کرتے ہیں۔ پیسے کے لیے سی ایم کے مطالبہ کا کوئی جواب نہیں ملا۔"

چدمبرم نے اپنے ایک دیگر ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ "25 مارچ 2020 کے پیکیج میں ایک روپیہ نہیں جوڑا گیا ہے۔" وہ مزید لکھتے ہیں کہ "غریبوں کو 19+21 دنوں کے لیے خود کو روکنا چھوڑ دیا گیا ہے، جس میں عام طور پر کھانے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ پیسہ ہے، کھانا ہے، لیکن حکومت پیسہ یا کھانا نہیں دے گی۔ روتے رہو، میرے پیارے ہم وطنو۔"

دوسری طرف کانگریس کے سینئر لیڈر آنند شرما کا کہنا ہے کہ ’’لاک ڈاؤن کو ہٹانے کے لیے تین مراحل کی بات ہو رہی ہے۔ پہلے مرحلہ میں کچھ معاشی سرگرمیوں کی شروعات۔ یہاں بڑی تعداد میں دہاڑی مزدور ہیں۔" آنند شرما نے کہا کہ "ایم ایس ایم ای کو دوبارہ زندہ کیا جائے، ریاستوں کو وسائل دیئے جائیں۔ جی ایس ٹی ریفنڈ بھی اب تک نہیں دیا گیا، نہ ہی منریگا کی ادائیگی کی گئی ہے۔ اس پر دھیان دینا ضروری ہے۔ معاشی پیکیج کا بھی پارٹ-2 آنا لازمی ہے۔‘‘

لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے پی ایم مودی کے خطاب کے بعد میڈیا کے سامنے اپنا رد عمل پیش کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں میں پہلے سے یہ باتیں چل رہی تھیں کہ لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع ہوگی، اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ملک کے لیے لاک ڈاؤن بڑھانا ضروری ہے۔ ملک کو کورونا انفیکشن سے بچانا اس وقت سب سے زیادہ ضروری ہے۔ لیکن معاشی پیکیج کے تعلق سے کوئی بات نہیں کی گئی جو باعث فکر ہے۔