شراب گھوٹالہ معاملہ: کیجریوال-سسودیا سمیت عآپ لیڈران کو ہائی کورٹ نے جاری کیا توہین عدالت کا نوٹس، 4 ہفتوں میں جواب طلب
عام آدمی پارٹی کے لیڈران پر جسٹس سورن کانتا شرما کے خلاف مبینہ طور پر ہتک آمیز اور توہین آمیز تبصرے کرنے کا الزام ہے۔ اس معاملے کی سماعت جسٹس نوین چاؤلہ اور جسٹس رویندر دودیجا کی بنچ کر رہی ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے آج عآپ کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال، سنجے سنگھ، منیش سسودیا اور ونئے مشرا کے خلاف توہین عدالت کے معاملہ میں سماعت کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے ان تمام لیڈران سے 4 ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے، اور اب اس معاملے کی اگلی سماعت 4 اگست کو ہوگی۔ شراب پالیسی معاملے کی سماعت کے دوران جسٹس سورن کانتا شرما کو ہدف تنقید بنانے کے لیے مبینہ طور پر چلائی گئی ایک منظم سوشل میڈیا مہم کے سلسلے میں یہ کارروائی کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ عام آدمی پارٹی کے لیڈران پر جسٹس سورن کانتا شرما کے خلاف مبینہ طور پر ہتک آمیز اور توہین آمیز تبصرے کرنے کا الزام ہے۔ اس معاملے کی سماعت جسٹس نوین چاؤلہ اور جسٹس رویندر دودیجا کی بنچ کر رہی ہے۔ جسٹس سورن کانتا شرما نے کیجریوال سمیت عام آدمی پارٹی کے لیڈران کے خلاف مجرمانہ توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔
جسٹس سورن کانتا شرما نے کہا تھا کہ وہ شراب پالیسی معاملہ کے کچھ بری ہونے والے ملزمان کی جانب سے سوشل میڈیا پر ان کے اور عدالت کے خلاف کیے گئے انتہائی توہین آمیز، ہتک آمیز اور ناپسندیدہ تبصروں پر خاموش نہیں رہ سکتیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ میرے علم میں آیا ہے کہ کچھ جواب دہندگان میرے اور اس عدالت کے خلاف انتہائی گھناؤنا، توہین آمیز اور ہتک آمیز مواد پوسٹ کر رہے ہیں۔ میں خاموش نہیں رہ سکتی۔
قابل ذکر ہے کہ دہلی کے مبینہ شراب گھوٹالہ معاملہ میں جسٹس سورن کانتا شرما نے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی اس اپیل پر مزید سماعت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے اروند کیجریوال اور دیگر ملزمان کو دی گئی ریلیف کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اب جسٹس منوج جین شراب گھوٹالہ معاملہ میں سی بی آئی کی درخواست پر سماعت کریں گے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
