شراب گھوٹالہ معاملہ: ’ایمیکس کیوری‘ کے ذریعہ ہوگی سماعت، عآپ لیڈران کی سماعت کے بائیکاٹ کے بعد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

20 اپریل کو جسٹس شرما نے خود کو معاملے سے الگ کرنے والی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔ اس کے بعد کیجریوال اور سسودیا نے عدالت کو خط لکھ کر کہا تھا کہ وہ نہ تو ذاتی طور پر اور نہ ہی وکیل کے ذریعہ پیش ہوں گے۔

منیش سسودیا اور اروند کیجریوال، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

دہلی کی مشہور شراب پالیسی معاملہ میں سماعت کے دوران ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈران اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور ان کے ساتھ درگیش پاٹھک کے ذریعہ عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیے جانے کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ 3 سینئر وکلاء کو ’ایمیکس کیوری‘ کے طور پر مقرر کیا جائے گا۔

جسٹس سورن کانتا شرما کی بنچ نے منگل کو کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ ملزمان کا موقف عدالت میں رکھا جائے اگرچہ وہ خود پیش نہ ہوں۔ عدالت نے کہا کہ وہ جمعہ (8 مئی) کو ایمیکس کیوری کی تقرری پر باضابطہ حکم جاری کرے گی، جس کے بعد معاملے کی سماعت ہوگی۔ ایمیکس کیوری کا مطلب عدالت کا دوست ہوتا ہے۔ دراصل ایمیکس کیوری ایک سینئر اور تجربہ کار وکیل ہوتا ہے، جو کسی بھی فریق کا نمائندہ ںہیں ہوتا، لیکن عدالت کی مدد کے لیے مقرر کیا جاتا ہے۔ اس کا کام قانونی مسائل کو واضح کرنا اور منصفانہ سماعت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔


واضح رہے کہ 20 اپریل کو جسٹس شرما نے خود کو معاملے سے الگ کرنے والی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔ اس کے بعد کیجریوال اور سسودیا نے عدالت کو خط لکھ کر کہا تھا کہ وہ نہ تو ذاتی طور پر اور نہ ہی وکیل کے ذریعہ پیش ہوں گے۔ انہوں نے اپنے موقف کو مہاتما گاندھی کے ستیہ گرہ کے راستے پر چلنا قرار دیا اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے قبل 27 فروری کو ٹرائل کورٹ نے تمام ملزمان کو بری کر دیا تھا۔ اس وقت عدالت نے کہا تھا کہ استغاثہ کا مقدمہ عدالتی جانچ میں ٹکنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔

اس کے بعد 9 مارچ کو ہائی کورٹ نے سی بی آئی کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا تھا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کے بعض نتائج کو پہلی نظر میں غلط قرار دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی کی سفارش پر بھی روک لگا دی گئی تھی۔ اس سے قبل کیجریوال اور سسودیا سمیت تمام ملزمان نے جسٹس شرما پر جانبداری کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جج کے اہل خانہ مرکزی حکومت کے پینل میں وکیل ہیں۔ اس معاملہ میں سالیسٹر جنرل سی بی آئی کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں۔ حالانکہ عدالت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔