’آپ سے انصاف کی امید نہیں‘، جسٹس سورن کانتا کو خط لکھ کر کیجریوال نے سماعت کے بائیکاٹ کا کیا اعلان

اروند کیجریوال کے مطابق انہیں اب جسٹس سورن کانتا سے انصاف ملنے کی امید نہیں رہی، اس لیے وہ نہ تو خود عدالت میں پیش ہوں گے اور نہ ہی اپنے وکیل کو بھیجیں گے۔

<div class="paragraphs"><p>اروند کیجریوال / ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے کنویز اروند کیجریوال نے جسٹس سورن کانتا کو ایک خط لکھا ہے۔ کیجریوال کے مطابق انہیں اب جسٹس سورن کانتا سے انصاف ملنے کی امید نہیں رہی، اس لیے وہ نہ تو خود عدالت میں پیش ہوں گے اور نہ ہی اپنے وکیل کو بھیجیں گے۔ یعنی کیجریوال نے ایک طرح سے سورن کانتا کی عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔ اپنے خط میں کیجریوال نے واضح کیا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اپنے ضمیر کی آواز سن کر لیا ہے۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کے ستیہ گرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب وہ قانونی لڑائی کے بجائے اخلاقی اور نظریاتی اختلاف کا راستہ اپنائیں گے۔ کیجریوال نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ان کا یہ قدم عدالتی نظام کے خلاف نہیں، بلکہ اپنے اصولوں کی حمایت میں ہے۔ حالانکہ انہوں نے واضح کیا کہ اگر جسٹس سورن کانتا کوئی فیصلہ سناتی ہیں تو اس کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اختیار وہ اپنے پاس محفوظ رکھیں گے۔

غور طلب ہے کہ اس سے قبل 20 اپریل کو دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس سورن کانتا شرما نے اروند کیجریوال کی اس عرضی کو خارج کر دیا تھا، جس میں انہوں نے دہلی ایکسائز پالیسی کیس کی سماعت سے جسٹس کو خود الگ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اپنا فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس شرما نے واضح کیا تھا کہ عرضی پر غور و خوض کیے بغیر سماعت سے پیچھے ہٹ جانا ایک آسان متبادل ہوتا، لیکن انہوں نے ادارہ جاتی سالمیت اور وقار کو مقدم رکھتے ہوئے معاملے کے میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ لینا مناسب سمجھا۔ انہوں نے اس بات کابھی تذکرہ کیا کہ جب انہوں ںے اپنا فیصلہ پڑھنا شروع کیا تو عدالت میں مکمل خاموشی چھا گئی تھی۔


جسٹس سورن کانتا نے مزید کہا تھا کہ ان کے سامنے یہ محض ایک قانونی سوال نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا چیلنج تھا جس نے جج اور عدالتی ادارے دونوں کو ’امتحان‘ کی کسوٹی پر کھڑا کر دیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ نے اس بات کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک ٹھوس شواہد سے تردید نہ ہو جائے، جج کی غیر جانبداری کو مان لیا جاتا ہے اور کسی مدعی کے محض خدشے یا ذاتی تصور کی بنیاد پر جسٹس کو معاملے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

سورن کانتا شرما نے یہ بھی کہا تھا کہ کسی مدعی کو ایسی صورتحال پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جس سے عدالتی عمل کا معیار گرے۔ جھوٹ خواہ عدالت میں ہو یا سوشل میڈیا پر، ہزار بار دہرایا جائے تو سچ نہیں ہو جاتا۔ کیجریوال کے ذریعہ عائد کیے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے جسٹس نے کہا کہ جانبداری کے دعووں کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے، جن میں بار کونسل کے ذریعہ منعقدہ پروگرام میں ان کی شرکت یا ان کے خاندان کے اراکین کی پیشہ ورانہ مصروفیت سے متعلق الزامات بھی شامل ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔