دہلی شراب گھوٹالہ کیس: اروند کیجریوال کا بنچ بدلنے کی درخواست کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع
شراب کے مبینہ گھوٹالہ معاملے میں کیجریوال نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کر کے دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس سورن کانتا شرما کی بنچ سے مقدمہ دوسری بنچ میں منتقل کرنے کی درخواست کی ہے

نئی دہلی: دہلی شراب گھوٹالہ معاملے میں عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ انہوں نے اس مقدمے میں مرکزی جانچ بیورو کی عرضی کی سماعت کر رہی دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس سورن کانتا شرما کی بنچ سے کیس کو کسی دوسری بنچ میں منتقل کرنے کی مانگ کی ہے۔
اروند کیجریوال نے سپریم کورٹ میں داخل عرضی میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر یہی جج اس مقدمے کی سماعت جاری رکھتی ہیں تو غیر جانب دارانہ سماعت ممکن نہیں ہو سکے گی۔
اس سے پہلے انہوں نے دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے کو بھی ایک خط لکھ کر بنچ تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم چیف جسٹس نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔ اس دوران دہلی ہائی کورٹ میں جسٹس سورن کانتا شرما کی بنچ کے سامنے پیر کو اسی معاملے کی سماعت متوقع ہے۔
یہ معاملہ مرکزی جانچ بیورو کی اس عرضی سے جڑا ہے جس میں اس نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس کے تحت اس کیس کے تمام 23 ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔ ان ملزمان میں اروند کیجریوال اور دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں جسٹس سورن کانتا شرما کی بنچ نے مرکزی جانچ بیورو کی عرضی پر اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور دیگر ملزمان کو نوٹس جاری کیا تھا۔
اروند کیجریوال نے دہلی ہائی کورٹ کے 9 مارچ کے اس حکم کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے جس میں بنچ نے ان کا مؤقف سنے بغیر مرکزی جانچ بیورو کے تفتیشی افسر سے متعلق ٹرائل کورٹ کی جانب سے کی گئی بعض سخت ریمارکس پر روک لگا دی تھی۔ کیجریوال کی جانب سے پیر کو چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ کے سامنے جلد سماعت کی درخواست بھی کی جا سکتی ہے۔
اسی دوران انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بھی ایک عرضی داخل کر کے ٹرائل کورٹ کی ان ریمارکس کو حذف کرنے کی مانگ کی ہے جو اس کے خلاف درج کی گئی تھیں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ جب ٹرائل کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا تھا اس وقت وہ اس مقدمے میں فریق نہیں تھی اور اسے اپنی بات رکھنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا۔ حکومت کی جانب سے اضافی سالیسیٹر جنرل ایس وی راجو نے عدالت میں کہا کہ ٹرائل کورٹ کی ریمارکس انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جاری تفتیش کو متاثر کر سکتی ہیں، جو انسداد منی لانڈرنگ قانون کے تحت جاری ہے۔
ادھر دہلی ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی شکایت پر بھی اسی وقت غور کیا جائے گا جب مرکزی جانچ بیورو کی عرضی پر سماعت ہوگی، کیونکہ ٹرائل کورٹ کے پورے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ مرکزی جانچ بیورو کا مؤقف ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ غلط ہے اور ملزمان کو مقدمہ چلائے بغیر ہی بری کر دیا گیا، جبکہ جانچ ایجنسی کے مطابق دہلی کی آبکاری پالیسی میں مبینہ طور پر کچھ نجی شراب کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے تبدیلیاں کی گئی تھیں اور اس کے بدلے رشوت لی گئی تھی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔