اندور سے بھی نہیں لیا سبق، روہتاس میں 332 مواضعات میں ’زہریلے پانی‘ سے معذور ہورہی نسلیں، انتظامیہ بے حس!

مقامی لوگوں کے مطابق گاؤں کے زیادہ ترلوگ معذورہیں۔ نسلوں سے اسی پانی کے استعمال نے انہیں معذورکردیا ہے۔ اس علاقے میں حالات اس قدرخوفناک اورقابل رحم ہیں کہ جانور بھی معذوری کا شکار ہورہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>پانی /&nbsp; آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مدھیہ پردیش کے اندورمیں آلودہ پانی کی وجہ سے ایک درجن سے زائد اموات کی خبروں کے درمیان بہار کے روہتاس ضلع کے 332 گاؤں میں پانی کے زہر بننے کی خبرآرہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بہت زیادہ فلورائیڈ والے پانی نے کئی گاؤں والوں کو معذور کر دیا ہے۔ وہیں گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ انہیں آج بھی صاف پینے کا پانی نصیب نہیں ہوپا رہا ہے۔ صورتحال اس قدر بھیانک ہے کہ اس پانی میں دال تک نہیں گلتی ہے۔ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ (پی ایچ ای ڈی) نے ان مواضعات کو فلورائیڈ سے متاثرہ قرار دیا ہے اس کے باوجود برسوں بعد بھی اس مسئلے کا کوئی ٹھوس حل تلاش نہیں کیا جا سکا ہے۔

’اے بی پی نیوز‘ کے مطابق ساسارام ​​شہرمیں ضلع ہیڈکوارٹرسے تقریباً 10 کلومیٹر دورکروندیا اورجموہار سے پانی کی سپلائی کی جاتی ہے۔ سپلائی کے پائپ کئی جگہوں پرگندے جمع پانی سے گزرتے ہیں۔ پائپ پھٹنے کے واقعات تواترسے ہوتے ہیں لیکن ذمہ دار محکمہ کی بے حسی کے باعث بروقت مرمت نہیں ہو پاتی۔ پرانے محلوں کی تنگ گلیوں میں جگہ کی قلت کے سبب گھروں تک جانے والے پائپ نالیوں کے اوپر سے نکالے گئے ہیں۔ کہیں رساؤ ہوا تو گھروں میں نالے کا گندہ پانی پہنچ جاتا ہے۔ غریب اورمعاشی طور پر کمزور لوگ یہی پانی پینے پرمجبورہیں۔ وہیں وسائل رکھنے والے لوگ بورویل یا خریدے ہوئے جارکا پانی پی رہے ہیں لیکن جارکے پانی کا معیار بھی شک کے گھیرے میں۔


اس سلسلے میں روہتاس ضلع ہیڈکوارٹرسے متصل شیو ساگر بلاک میں فلورائیڈ سے متاثر98 مواضعات کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔ سب سے سنگین صورتحال ناد پنچایت کے باروا گاؤں میں ہے۔ یہاں زیر زمین پانی میں فلورائیڈ کی سطح معیارسے 10 گنا زیادہ پائی گئی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق گاؤں کے زیادہ ترلوگ معذورہیں۔ نسلوں سے اسی پانی کے استعمال نے انہیں معذورکردیا ہے۔ حالات اس قدرخوفناک ہیں کہ جانور بھی معذوری کا شکار ہورہے ہیں۔ گاوؤں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے گئے لیکن وہ بھی کارآمد ثابت نہیں ہوئے۔

پی ایچ ای ڈی حکام کا دعویٰ ہے کہ ضلع میں فلورائیڈ سے متاثرہ 332 گاؤں میں سے 272 میں ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے گئے ہیں اور ٹریٹ شدہ پانی کے معیار کی جانچ کی جا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدھے سے زیادہ ٹریٹمنٹ پلانٹس سے پانی کی سپلائی ابھی تک شروع نہیں ہوسکی۔ کئی مقامات پر آپریٹرز نہیں ہیں، دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے پلانٹ بیکار پڑے ہیں۔ بکرم گنج فلورائیڈ سے متاثرہ مواضعات کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے، جہاں ایسے 46مواضعات کی تعداد 46 ہے۔


پی ایچ ای ڈی کے ایگزیکٹو انجینئر امیت کمار کا کہنا ہے کہ روہتاس ضلع کے 332 مواضعات میں فلورائیڈ آلودہ پانی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ شیو ساگر بلاک کے بروا گاؤں میں ایک واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ چالو ہے۔ دیگر مقامات پر لگائے گئے پلانٹس کے معیار کی جانچ کی جا رہی ہے۔ بتادیں کہ مدھیہ پردیش کے اندور جنوری 2026 کے اوائل میں آلودہ پانی پینے سے تقریباً 17 لوگوں کی موت کی خبریں ہیں خاص طور پر بھاگیرتھ پورہ علاقے میں، جہاں بڑی تعداد میں لوگ بیمار پڑے، اس کے باوجود بہار حکومت اور متعلقہ محکمے خواب غفلت سے باہر نکلنے کے لئے تیار نہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔