لیفٹ فرنٹ اور دیگر حلیف جماعتیں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف تحریک چلائیں گی

بائیں بازو کی 15 جماعتوں نے مہنگائی اور روزگار کے مطالبے کے لیے 25 سے 31 مئی تک ریاست بھر میں جلسوں اور جلوسوں سمیت متعدد تحریکیں چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

یو این آئی

کلکتہ: بائیں محاذ اور ان کی دیگر حامی جماعتوں نے مہنگائی کے خلاف 25مئی سے 31مئی تک ریاست بھر میں تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسمبلی انتخابات میں ایک بھی سیٹ نہیں ملنے کے باوجود گزشتہ مہینوں میں ہونے والے کلکتہ کارپوریشن اور دیگر 100میونسپلٹی انتخابات میں بائیں محاذ کے ووٹ فیصد میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی وجہ سے حالیہ مہینوں میں بائیں محاذ کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے اور ممتا بنرجی کے خلاف اصل اپوزیشن جماعت کا کردار ادا کر رہی ہے۔

بدھ کو بائیں بازو کی 15 جماعتوں کی میٹنگ ہوئی جس میں مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مہنگائی اور روزگار کے مطالبے کے لیے 25 سے 31 مئی تک ریاست بھر میں جلسوں اور جلوسوں سمیت متعدد تحریکیں چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کلکتہ میں بھی مرکزی پروگرام ہوگا۔ تین گھنٹے تک جاری رہنے والے دھرنے کے پروگرام میں 15 ٹیموں کی اعلیٰ قیادت شرکت کریں گی۔ سی پی آئی ایم، سی پی آئی، آر ایس پی، فارورڈ بلاک، آر سی پی آئی، بی بی سی، سی پی آئی ایم ایل، ایم ایف بی، ورکرز پارٹی، بالشویک پارٹی، سی آر ایل آئی، سی پی بی، پی ڈی ایس، آر جے ڈی، این سی پی اور جے ڈی یو کے قائدین گزشتہ دنوں ہوئی میٹنگ میں موجود تھے۔


بمان باسو نے کہا کہ اس وقت اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور تشویش کی حد تک بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ عوام کے کندھوں پر غیر معمولی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ بھوک بڑھتی جا رہی ہے۔ خودکشیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خوردنی تیل کی قیمتوں میں 23 فیصد اضافہ ہوا ہے، اناج کی قیمتوں میں 6 فیصد اور گندم کی قیمتوں میں 14 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

وزیر اعلیٰ نے ریاست میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ٹاکس فورس بنانے کا اعلان کیا ہے۔ انہیں مارکیٹ کی نگرانی کرنی چاہیے۔ مگر یہ ٹاسک فورس ناکام ہے۔ مرکزی حکومت کی طرح ریاستی حکومت بھی پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا کر پیسہ اکٹھا کر رہی ہے۔ اس کی وجہ سے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ ریاست میں تحریک کی روایت کے مطابق 15 بائیں بازو اور اتحادی جماعتوں نے مشترکہ طور پر تحریک کے پروگرام کو اپنایا ہے۔ 21 مئی تک اضلاع میں بائیں بازو کی جماعتوں اور اتحادی جماعتوں کے اجلاس منعقد کرکے پروگرام طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔