مکل رائے کا انتقال: ممتا بنرجی کے معتمد ساتھی اور ٹی ایم سی کے اہم رہنما دنیا سے رخصت
مکل رائے اور ممتا بنرجی دونوں کی سیاسی شروعات یوتھ کانگریس سے ہوئی تھی۔ جنوری 1998 میں جب ممتا بنرجی نے ٹی ایم سی کی بنیاد رکھی، تب مکل رائے کو تنظیم کا مضبوط ستون مانا گیا۔

مغربی بنگال کی سیاست میں گہری گرفت رکھنے والے سابق وزیر ریل اور ٹی ایم سی کے سینئر لیڈر مکل رائے کا 71 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ مغربی بنگال کی سیاست میں ’حکمت عملی کے ماہر‘ کہے جانے والے مکل رائے کا نام کبھی ممتا بنرجی کے سب سے بھروسے مند ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ تنظیم سازی سے لے کر انتخابی حکمت عملی تیار کرنے تک ان کے سیاسی سفر نے بنگال کی سیاست کو کئی بار نئی سمت دی۔
طویل عرصے تک ٹی ایم سی کے دوسرے سب سے طاقتور چہرے رہے مکل رائے نے اپنی تقریباً 3 دہائیوں پر مشتمل طویل سیاسی زندگی میں کئی مراحل دیکھے، کانگریس، ترنمول کانگریس، بی جے پی اور پھر دوبارہ ترنمول کانگریس۔ لیکن بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے درمیان ان کی سیاسی چمک آہستہ آہستہ کم ہوتی چلی گئی۔
مکل رائے اور ممتا بنرجی دونوں کی سیاسی شروعات یوتھ کانگریس سے ہوئی تھی، دونوں ساتھ ساتھ سیاست میں آگے بڑھے۔ جنوری 1998 میں جب ممتا بنرجی نے ٹی ایم سی کی بنیاد رکھی، تب مکل رائے کو تنظیم کا مضبوط ستون مانا گیا۔ پارٹی بننے کے فوراً بعد انہیں جنرل سکریٹری بنایا گیا۔ بنگال میں بوتھ کی سطح تک تنظیم کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ رہی کہ کچھ ہی سالوں میں وہ ٹی ایم سی کے مرکز کی سیاست میں نمایاں چہرہ بن کر ابھرے۔
2006 میں مکل رائے پہلی بار راجیہ سبھا پہنچے۔ 2009 سے 2012 تک وہ راجیہ سبھا میں ٹی ایم سی کے لیڈر رہے۔ یو پی اے-2 حکومت میں انہیں پہلے جہاز رانی کا وزیر مملکت بنایا گیا، اس کے بعد مارچ 2012 میں وہ وزیر ریلوے بنے۔ ان کی مدت کار اگرچہ مختصر رہی (20 مارچ 2012 سے 21 ستمبر 2012 تک) لیکن اس دوران انہوں نے کچھ ایسے فیصلے لیے جو آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ ان دنوں ریلوے بجٹ میں کرایوں میں اضافہ ایک بڑٖا مسئلہ بنا ہوا تھا۔ اس وقت کے وزیر ریلوے دنیش تریویدی نے کئی زمروں میں کرایہ بڑھایا تھا، جس کی ٹی ایم سی نے مخالفت کی تھی۔ اس کے بعد دنیش تریویدی کو عہدہ چھوڑنا پڑا اور مکل رائے کو وزارت ریلوے کی ذمہ داری ملی۔ عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے اے سی فرسٹ اور اے سی سیکنڈ کلاس کو چھوڑ کر تھرڈ اے سی، سلیپر اور جنرل کلاس میں بڑھایا گیا کرایہ واپس لے لیا۔ اس فیصلے کو عام مسافروں کے مفاد میں سمجھا گیا اور اس سے انہیں کافی مقبولیت ملی۔ وزیر ریلوے کے طور پر ان کا ایک اور مشہور قدم ’گیان ادے ایکسپریس‘ تھا۔ یہ ایک خصوصی تعلیمی ٹرین تھی، جسے دہلی یونیورسٹی کے تقریباً 1000 طلبہ کے لیے چلایا گیا تھا۔ اس ٹرین نے طلبہ کو احمدآبا، ممبئی گوا اور بنگلورو جیسے شہروں کا سفر کرایا۔ اس وقت یہ پہل کافی انوکھی مانی گئی تھی۔
مکل رائے کی سیاسی زندگی کا بڑا موڑ 2017 میں آیا جب انہوں نے ٹی ایم سی چھوڑ کر بی جے پی جوائن کر لی۔ 2021 کے اسمبلی انتخاب میں وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر کرشنا نگر نارتھ سے رکن اسمبلی منتخب کیے گئے۔ بی جے پی تنظیم کو مضبوط کرنے میں بھی ان کا اہم کردار مانا گیا۔ حالانکہ انتخاب کے فوراً بعد وہ پھر سے ٹی ایم سی میں لوٹ آئے، لیکن ان کی سیاسی گرفت پہلے جیسے مضبوط نہیں رہی۔
13 نومبر 2025 کو کلکتہ ہائی کورٹ نے اینٹی ڈفیکشن قانون کے تحت انہیں رکن اسمبلی کے عہدے سے نااہل قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے بعد ان کی عوامی زندگی تقریباً خاموش ہو گئی۔ ایک وقت بنگال کی سیاست میں ’چانکیہ‘ کہے جانے والے مکل رائے کا اثر و رسوخ صحت کی خرابی اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات کی وجہ سے آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا۔ پھر بھی بنگال کی سیاست میں تنظیم سازی اور انتخابی حکمت عملی تیار کرنے کی ان کی صلاحیت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔