کشمیری پنڈت قتل معاملہ: مظاہرین پر لاٹھی چارج، بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے داغے آنسو گیس کے گولے

ناراض مظاہرین نے کہا کہ انھوں نے انتظامیہ اور پولیس کو مطلع کیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر کو موقع پر جانا چاہیے اور انھیں یقین دلانا چاہیے کہ راہل بھٹ کے قتل میں شامل قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

جموں و کشمیر کے بڈگال میں جمعرات کو دہشت گردوں کے ذریعہ کشمیری پنڈت راہل بھٹ کے قتل کے خلاف ان کے کچھ معاونین نے آج سڑک پر اتر کر ناراضگی ظاہر کی۔ جموں و کشمیر پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغ کر اور لاٹھی چارج کر کے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔ مظاہرین کشمیری پنڈت ملازمین سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طرف مارچ کر رہے تھے، تبھی پولیس نے ان کے مارچ کو روکا اور انھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے۔ اس کے بعد بھی مظاہرین کے نہیں ماننے پر پولیس نے ہلکا لاٹھی چارج کر بھیڑ کو منتشر کیا۔

مظاہرہ کر رہے پنڈت ملازمین شیخ پورہ-بڈگام رہائشی کالونی کے تھے۔ وہ راہل بھٹ کے قاتلوں کو گرفتار کرنے اور انھیں سزا دلانے کے مطالبہ کو لے کر نعرے لگا رہے تھے۔ وہ تحصیل دفتر چدورا میں ڈیوٹی کے دوران مارے گئے تھے۔ مظاہرین نے کہا کہ وہ صبح 11 بجے تک لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا انتظار کر رہے تھے، لیکن وہ نہیں آئے اور انھوں نے اپنا احتجاج درج کرانے کے لیے ہوائی اڈے کی طرف مارچ کرنے کا فیصلہ کیا۔


ناراض مظاہرین نے کہا کہ انھوں نے انتظامیہ اور پولیس کو مطلع کیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر کو موقع پر جانا چاہیے اور انھیں ان کی سیکورٹی کی یقین دہانی کرانی چاہیے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ راہل بھٹ کے قتل میں شامل قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔