اتر پردیش: کورونا قہر کے درمیان برآمد تیرتی لاشوں کی آخری رسومات ادا

بلیا کی ضلع مجسٹریٹ ادیتی سنگھ نے کہا کہ نرالی پولیس تھانہ حلقہ کے تحت گنگا میں بلیا-بکسر پل کے نیچے لاشوں کی اطلاع پر سب ڈپارٹمنٹل مجسٹریٹ صدر اور سرکل افسر صدر نے تلاشی مہم چلائی۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے غازی پور اور بلیا اضلاع میں گنگا ندی سے برآمد ہوئی سبھی لاشوں کی آخری رسومات ادا کر دی گئی اور یہ پتہ لگانے کے لیے جانچ شروع کی گئی کہ ندی میں لاشوں کو کہاں سے بہایا گیا تھا۔ بلیا کی ضلع مجسٹریٹ ادیتی سنگھ نے کہا کہ نرالی پولیس تھانہ حلقہ کے تحت گنگا میں بلیا-بکسر پل کے نیچے مخدوش لاشوں کی اطلاع پر سَب ڈپارٹمنٹل مجسٹریٹ صدر اور سرکل افسر صدر نے تلاشی مہم چلائی۔ افسران نے حالانکہ لاشوں کی کل تعداد کا انکشاف نہیں کیا۔

لاشیں پیر کی شام ندی میں تیرتی ہوئی پائی گئیں اور افسران کو بلیا کے نرہی تھانہ کے تحت اجیار اور بھرولی کے پاس بڑی تعداد میں مخدوش لاشیں برآمد ہوئیں۔ بلیا اور غازی پور ضلع کے افسران کے ذریعہ گنگا اور اس کی معاون ندیوں میں مشترکہ تلاشی مہم چلائی گئی، جس میں کرمناشا بھی شامل ہے، جب مقامی لوگوں نے انتظامیہ کو ندی میں تیرتی ہوئی کئی لاشوں کے بارے میں خبر دی۔

بہار کے بکسر میں افسران نے پیر کو دعویٰ کیا کہ گنگا ندی میں تیرتی لاشیں یو پی سے آ رہی ہیں۔ جائزہ کے دوران غازی پور-بکسر سرحد پر گنگا میں سنگم سے پہلے کرمناشا ندی میں سات لاشوں کو دیکھا گیا تھا۔ ضلع مجسٹریٹ غازی پور ایم پی سنگھ نے کہا کہ ’’سبھی لاشوں کو جلا دیا گیا ہے اور اندیشہ ہے کہ کچھ دن پہلے ان کی موت ہوئی ہے۔یہ پتہ لگانا مشکل ہے کہ ندیوں میں لاشوں کو کہاں سے بہایا گیا تھا، لیکن ہم نے پولیس سے یہ پتہ لگانے کے لیے کہا ہے کہ کیا ہمارے علاقے میں دیہی عوام ایسا کر رہے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔