ریت میں سر ڈالنا ’مثبت‘ نہیں بلکہ ملک کے شہریوں کے ساتھ دھوکہ ہے: راہل گاندھی

کورونا کی وبا کے دوران بی جے پی کی طرف سے مثبت باتوں پر زور دینے کی حکمت عملی کے حوالہ سے راہل گاندھی نے پارٹی پر زبردست حملہ بولا ہے

راہل گاندھی، تصویر یو این آئی
راہل گاندھی، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کورونا کی وبا کے دوران بی جے پی کی طرف سے مثبت باتوں پر زور دینے کی حکمت عملی کے حوالہ سے راہل گاندھی نے پارٹی پر زبردست حملہ بولا ہے۔ راہل گاندھی نے جارحانہ رویہ برقرار رکھتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ مثبت سوچ کی چھوٹی تسلی طبی اہلکاروں اور ان کنبوں کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے جنہوں نے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو کھو دیا ہے اور آکسیجن، اسپتال، ادویات کے بحران سے دو چار ہیں۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ریت میں سر ڈالنا مثبتیت نہیں، بلکہ ملک کے باشندگان کے ساتھ دھوکہ ہے۔ راہل گاندھی نے ٹوئٹ کے ساتھ ایک خبر کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا ہے، جس میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ ملک میں مثبت ماحول تیار کرنے کے لئے حکومت نگیٹیو رپورٹ کی تعداد زیادہ دکھائے گی۔

اس سے قبل پیر کے روز راہل گاندھی نے مودی حکومت پر اس کے ’سینٹرل وسٹا‘ پروجیکٹ کے حوالہ سے حملہ بولا تھا۔ انہوں نے براہ راست وزیر اعظم مودی پر وار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کو اپنے اس گلابی چشمہ کو اتارنا چاہیے جس میں سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے علاوہ کچھ اور نظر ہی نہیں آتا۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا، ’’ندیوں میں بہتی ہوئی لاشوں، اسپتالوں میں لمبی قطاروں، زندگی کی سلامتی کا چھین لیا گیا حق! وزیر اعظم وہ گلابی چشمہ اتاریئے جس میں سینٹرل وسٹا کے عالوہ کچھ نظر نہیں آتا۔‘‘

راہل گاندھی نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کورونا وبا کے اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کی امداد کریں۔ خیال رہے کہ کانگریس نے کورونا بحران میں لوگوں کی امداد کے لئے اپنی قومی دفتر اور صوبائی دفات میں بھی کنٹرول رومز قائم کئے ہیں۔ پارٹی کی نوجوان شاخ انڈین یوتھ کانگریس بھی سوشل میڈیا اور فون کے ذریعے لوگوں کی بھرپور مدد کر رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 12 May 2021, 12:11 PM