لینڈ فار جاب معاملہ: لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کو بڑی راحت، عدالت نے ذاتی پیشی سے دی چھوٹ
لالو پرساد یادو کی بیٹی اور رکن پالیمنٹ میسا بھارتی نے کہا کہ عدالت نے ان کی عمر اور صحت کو دیکھتے ہوئے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ پیش ہونے کو کہا ہے۔
دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ میں لینڈ فار جاب گھوٹالہ معاملے میں لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی پیر کو پیش ہوئے۔ عدالت نے اس دوران لالو خاندان پر عائد تمام الزامات کے متعلق معلومات فراہم کیں، جسے انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ لالو خاندان نے کہا کہ وہ مقدمے کا سامنے کریں گے۔ حالانکہ صحت کی خرابی کی بنیاد پر عدالت نے انہیں ذاتی طور پر پیشی سے چھوٹ بھی دے دی ہے۔
راؤز ایونیو کورٹ میں لالو پرساد یادو سے پوچھا گیا کہ کیا آپ الزامات کو قبول کرتے ہیں یا مقدمے کا سامنا کریں گے؟ انہوں نے الزامات کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے واضح لفظوں میں کہا کہ وہ مقدمہ لڑیں گے۔ واضح رہے کہ الزام طے کرتے وقت یہ ایک عمومی قانونی عمل ہے کہ جب عدالت باضابطہ طور پر الزامات کی تفصیل بتاتی ہے اور ملزمان سے اس بارے میں سوال کرتی ہے۔
راؤز ایونیو کورٹ نے لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کو ذاتی طور پر پیشی سے چھوٹ دے دی ہے، جب تک کہ ذاتی طور پر پیشی کا کوئی آرڈر نہ ہو۔ لالو پرساد یادو کی بیٹی اور رکن پالیمنٹ میسا بھارتی نے کہا کہ عدالت نے ان کی عمر اور صحت کو دیکھتے ہوئے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ پیش ہونے کو کہا ہے۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعلیٰ بہار رابڑی دیوی نے راؤز ایونیو کورٹ کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج کے سامنے ایک عرضی دی تھی، جس میں ذاتی طور پر چھوٹ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں رابڑی دیوی جج وشال گوگنے پر جانبداری کا الزام عائد کر چکی ہیں، اس وقت انہوں نے جج کو تبدیل کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ لینڈ فار جاب کا یہ پورا معاملہ 2004 سے 2009 کے درمیان کا ہے، اس وقت کے وزیر ریل لالو پرساد تھے۔ اس معاملے میں سی بی آئی کی طرف سے کورٹ میں جو چارج شیٹ پیش کی گئی ہے اس میں الزام ہے کہ ریلوے میں گروپ-ڈی نوکریاں دینے کے بدلے امیدواروں کے خاندانوں نے زمین کے چھوٹے چھوٹے پلاٹ لالو خاندان یا ان سے متعلق لوگوں کے نام ٹرانسفر کیے ہیں۔ یہ زمینیں کسی ایک جگہ نہیں بلکہ ریاست کے مختلف حصوں سے لی گئیں، جسے لالو خاندان کے اراکین کے نام کیا گیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔