لالو پرساد نے فیس بک پر لکھی ’راجہ اور پرجا‘ کی کہانی، خوب ہو رہا وائرل، آپ بھی پڑھیے...

ایک خیالی کہانی کے ذریعہ لالو پرساد نے مرکز کی مودی حکومت اور بہار کی نتیش حکومت کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

لالو پرساد یادو، تصویر آئی اے این ایس
لالو پرساد یادو، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو اس وقت چارہ گھوٹالہ سے جڑے معاملہ میں جیل میں بند ہیں۔ ان کی ضمانت عرضی پر سماعت رانچی ہائی کورٹ میں ہونی تھی لیکن 6 ہفتہ کے لیے ملتوی ہو گئی ہے۔ اس درمیان آر جے ڈی سربراہ نے فیس بک پر ’راجہ اور پرجا‘ یعنی حاکم اور عوام پر مبنی ایک قصہ لکھا ہے جو خوب وائرل ہو رہا ہے۔ اس کہانی کے ذریعہ لالو پرساد نے مرکز کی مودی حکومت اور بہار کی نتیش حکومت کو زبردست نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ فیس بک پر کہانی تحریر کرنے کے بعد آخر میں انھوں نے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ ’’یہ کہانی پوری طرح سے خیالی ہے اور اس کا آج کی حالت اور حالیہ کسی بھی واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘ لالو پرساد کی یہ کہانی معنی خیز ہے۔ آئیے آپ بھی پڑھیے کہ انھوں نے کہانی میں کیا کچھ لکھا ہے۔

एक बार एक राजा को ये जानने की दिलचस्पी हुई कि उसकी प्रजा में कौन लोग एक जागरूक और सजग नागरिक हैं और कौन नहीं। उसने अपने...

Posted by Lalu Prasad Yadav on Friday, December 11, 2020

لالو پرساد یادو کے فیس بک پر تحریر کردہ کہانی:

ایک بار ایک راجہ کو یہ جاننے کی دلچسپی ہوئی کہ اس کے عوام میں کون لوگ بیدار شہری ہیں اور کون نہیں۔ اس نے اپنے صلاحکاروں سے مشورہ کیا کہ آخر کس طرح بیدار شہریوں کی پہچان کی جائے۔ کسی نے صلاح دی کہ آپ سبھی عوام پر ایک روپے کا ٹیکس لگا دیجیے اور یہ ٹیکس جمع کرنا سب کے لیے لازمی کر دیجیے۔ راجہ کو یہ مشورہ اچھا لگا۔ راجہ نے حکم جاری کر دیا کہ فلاں تاریخ تک سبھی لوگ ایک روپے کا ٹیکس سرکاری خزانہ میں جمع کریں۔ راجہ سوچ میں تھا کہ کتنے لوگوں کو اس حکم کے بارے میں پتہ چل پائے گا؟ آخر کتنے لوگ اتنے بیدار ہیں کہ راجہ کے ذریعہ لیے گئے فیصلوں اور احکام کی جانکاری رکھ سکیں اور اس پر عمل کر سکیں۔

راجہ کو یہ بھی امید تھی کہ جو سب سے بیدار او ہوشیار لوگ ہوں گے انھیں نہ صرف اس حکم کے بارے میں پتہ چلے گا بلکہ وہ ہمارے پاس فریاد لے کر بھی آئیں گے۔ اس ٹیکس کو ہٹانے کی ان سے گزارش کریں گے۔

ایک دن گزرا، دو دن گزر گئے۔ تیسرا دن بھی گزر گیا۔ ٹیکس تو بہت لوگوں نے بھرا، لیکن راجہ کے پاس اس ٹیکس کے خلاف میں فریاد لے کر کوئی نہیں آیا۔

راجہ نے سوچا کہ شاید یہ ٹیکس بہت کم ہے۔ لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہے۔ سب لوگ آسانی سے یہ ٹیکس دے پا رہے ہیں۔ پھر راجہ نے ٹیکس بڑھا کر دو روپیہ کر دیا۔ لیکن، پھر بھی لوگوں کا ٹیکس دینا بدستور جاری رہا۔ مخالفت کی کہیں کوئی آواز نہیں۔ کوئی فریاد لے کر نہیں آیا راجہ کے پاس۔ لوگوں کا ٹیکس دینا جاری رہا۔

راجہ نے ٹیکس بڑھا کر تین روپیہ، پھر تین سے چار اور چار سے پانچ روپیہ کر دیا۔ لیکن پھر بھی لوگوں کا خزانہ میں ٹیکس دینا جاری رہا۔ ہار کر راجہ نے فیصلہ کیا کہ سبھی لوگوں کو نہ صرف پانچ روپے ٹیکس دینے ہوں گے، بلکہ ٹیکس جمع کرنے کے بعد انھیں دو کوڑے بھی کھانے ہوں گے۔

کوڑے مارنے کے لیے سپاہیوں کو تعینات کیا گیا۔

لوگ ٹیکس جمع کرتے تھے، دو کوڑے کھاتے تھے اور اپنے گھر جاتے تھے۔ راجہ انتظار کر رہا تھا کہ اب لوگ ان کے پاس آئیں گے۔ ان سے فریاد کریں گے کہ مہاراجہ، عوام آہ و بقا کر رہی ہے۔ یہ ٹیکس اور ساتھ میں یہ دو کوڑے کھانے کا قانون ہٹائیے۔

اور سچ میں کچھ لوگ راجہ کے دربار میں پہنچ گئے اپنی فریاد لے کر۔ راجہ نے پوچھا بولو کیا شکایت ہے تمھاری؟ ان لوگوں نےکہا ’’مہاراج، ہمیں بہت پریشانی ہو رہی ہے ٹیکس دینے اور کوڑے کھانے میں۔ آپ نے کوڑے مارنے کے لیے بہت کم سپاہیوں کو تقرر کیا ہے اور اس وجہ سے لائن بہت لمبی ہو جاتی ہے۔ ہم آپ کے پاس یہ فریاد لے کر آئے ہیں کہ آپ کوڑے مارنے کے لیے زیادہ سپاہیوں کو مقرر کیجیے تاکہ لائن لمبی نہ لگے اور عوام کو ٹیکس جمع کرنے اور کوڑے کھانے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next