لکھیم پور تشدد: چوطرفہ تنقید کا نشانہ بن رہے اجے مشرا کی امت شاہ کے سامنے پیشی!

لکھیم پور معاملے میں آشیش مشرا کے علاوہ ان کے والد مرکزی وزیر اجے مشرا پر بھی کسانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان دینے کا الزام لگ رہا ہے، بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے۔

امت شاہ اور اجے مشرا، تصویر آئی اے این ایس
امت شاہ اور اجے مشرا، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں ہوئے تشدد میں بیٹے آشیش مشرا کا نام آنے کے بعد سے سوالوں کے گھیرے میں آئے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے کمار مشرا نے بدھ کے روز مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نصف گھنٹے سے زیادہ چلی اس میٹنگ میں اجے مشرا نے اپنی طرف سے وضاحت پیش کی ہوگی۔ ملاقات سے پہلے وہ نارتھ بلاک واقع اپنے دفتر گئے اور وہاں کچھ دیر رکنے کے بعد شاہ سے ملاقات کے لیے نکل گئے۔

قابل ذکر ہے کہ اتوار کو اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کی ایک تقریب کے لیے مرکزی وزیر کے لکھیم پور کھیری میں آبائی گاؤں جانے کی مخالفت کر رہے کسانوں کو مبینہ طور پر مرکزی وزیر اجے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا نے اپنی تھار جیپ سے کچل دیا تھا۔ اس سے 4 کسانوں کی موت ہو گئی تھی۔ بعد ازاں تشدد پیدا ہو گیا اور ایک مقامی صحافی سمیت 5 دیگر لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ مجموعی طور پر اس واقعہ میں 9 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔


زبردست دباؤ کے بعد یو پی پولیس کے ذریعہ درج ایف آئی آر میں آشیش مشرا کے خلاف قتل اور لاپروائی سے موت کا الزام عائد کیا گیا ہے، لیکن واقعہ کے تین دن گزر جانے کے باوجود آشیش مشرا کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ پولیس کی یہ سستی کسانوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن لیڈروں کی ناراضگی کو بھی ہوا دے رہی ہے۔

واضح رہے کہ اس معاملے میں مرکزی وزیر اجے مشرا پر بھی کسانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے کا الزام عائد ہو رہا ہے۔ اس تقریر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے۔ حالانکہ وزیر اور ان کے بیٹے نے واضح طور پر اس واقعہ میں کسی بھی طرح سے شامل ہونے سے انکار کیا ہے اور مرکزی وزیر نے تو دعویٰ کیا کہ ان کا بیٹا جائے حادثہ پر موجود ہی نہیں تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔