لکھیم پور تشدد: قومی اقلیتی کمیشن نے لیا از خود نوٹس، چیف سکریٹری سے رپورٹ طلب

اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں گزشتہ اتوار کو ہوئے تشدد کا معاملہ ٹھنڈا پڑتا نظر نہیں آ رہا ہے، کسانوں کی تحریک کے دوران سکھوں سمیت کئی لوگوں کی موت پر قومی اقلیتی کمیشن نے از خود نوٹس لیا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں اتوار کو ہوئے تشدد کا ایشو ابھی تھمتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ لکھیم پور کھیری میں کسانوں کی تحریک کے دوران سکھوں سمیت کئی لوگوں کی موت پر قومی اقلیتی کمیشن نے از خود نوٹس لیا ہے۔ کمیشن نے اتر پردیش کے چیف سکریٹری کو ہدایت جاری کر پورے واقعہ پر 3 دن میں تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

دوسری طرف سپریم کورٹ میں بھی جمعرات کو اس معاملے پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے اتر پردیش حکومت سے جمعہ تک رپورٹ داخل کرنے کو کہا ہے۔ معاملے میں ہوئی سماعت کے دوران عدالت نے یو پی حکومت سے پوچھا کہ اب تک کتنی گرفتاریاں ہوئیں، اور ملزمین کتنے ہیں؟


اس درمیان کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے آج بہرائچ پہنچ کر لکھیم پور تشدد میں مارے گئے شہید کسان شہید گروِندر سنگھ اور دلجیت سنگھ کے گھر والوں سے مل کر انصاف کی لڑائی لڑنے کا بھروسہ دلایا۔ انھوں نے کہا کہ سبھی متاثرہ کنبے انصاف چاہتے ہیں اور انصاف کے لیے وزیر کی برخاستگی اور ان کے بیٹے و دیگر قتل کے ملزمین پر کارروائی ضروری ہے۔

اس سے قبل بدھ کے روز کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے لکھیم پور کھیری تشدد کے متاثرین سے ملاقات کی۔ ان کے ساتھ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنّی بھی موجود تھے۔ اپوزیشن لگاتار اس واقعہ پر مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کے بیٹے کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہی ہے، اور ساتھ ہی وزیر کو برخاست کرنے کا دباؤ بنانے کی کوشش بھی ہو رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔