لکھیم پور کھیری تشدد پر سماعت ’از خود نوٹس‘ نہیں بلکہ ’مفاد عامہ کی عرضی‘ کے طور پر ہوگی: سپریم کورٹ

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے تشدد کے معاملے میں دو وکلا کے خطوط کے ذریعے عدالت عظمی کو اطلاع ملی تھی۔ اس کی وجہ سے ایسی صورتحال پیدا ہوگئی۔

سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ لکھیم پور کھیری تشدد کیس کی سماعت ’’ازخود نوٹس‘‘ کے تحت نہیں کی جائے گی بلکہ ’’مفاد عامہ کی عرضی‘‘ کے طور پر کی جائے گی۔ چیف جسٹس این وی رمن کی سربراہی میں ایک ڈویژن بنچ نے سماعت شروع کرتے ہی کہا کہ رجسٹری آفس کے ساتھ اطلاعات کے تبادلے کی خامیوں کی وجہ سے لکھیم پور کھیری تشدد کیس ’ازخود نوٹس‘ معاملے کے طور پر سماعت کے لیے درج ہو گیا ہے۔ انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہ اس معاملہ کی سماعت مفاد عاملہ کی عرضی کے طور پر ہی کی جائے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے تشدد کے معاملے میں دو وکلا کے خطوط کے ذریعے عدالت عظمی کو اطلاع ملی تھی۔ اس کی وجہ سے ایسی صورتحال پیدا ہوگئی۔ انہوں نے اس معاملے کو مفاد عامہ کی عرضی کے طور پر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔


واضح رہے کہ بدھ کو سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اطلاع دی گئی تھی گیا کہ اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں تین اکتوبر کو ہوئے تشدد کے معاملے میں سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت جمعرات کو چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ کے سامنے کی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔