روڑکی میں چرچ پر حملہ کی منصوبہ بند سازش کے بعد متاثرین کا بیان ’کیا ہم سب کچھ چھوڑ کر چلے جائیں؟‘

حیران کن بات یہ ہے کہ چرچ پر حملہ کرنے والوں کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا، جبکہ متاثرین کے خلاف تبدیلی مذہب کا مقدمہ درج کر لیا گیا، کانگریس چرچ متاثرین کی حمایت میں امن مارچ نکالنے کی تیاری کر رہی ہے

تصاویر آس محمد
تصاویر آس محمد
user

آس محمد کیف

اتراکھنڈ کے شہر روڑکی میں سول لائن کوتوالی علاقے میں واقع سلونی پورم میں چرچ پر حملے کا معاملہ طول پکڑ رہا ہے۔ متاثرین اور پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت انجام دیا گیا تھا اور اس کے لیے کئی دنوں سے مسیحی سماج کے لوگوں پر طنز کئے جا رہے تھے۔ چرچ سے وابستہ لوگوں نے اس بارے میں پولیس کو شکایت بھی دی تھی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

اتراکھنڈ کے ڈی جی پی اشوک کمار کی مداخلت کے بعد اس واقعے کے کئی دنوں کے بعد روڑکی پولیس میں ہلچل نظر آئی اور پولیس اہلکار زخمیوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے اسپتال پہنچے۔ ذرائع کے مطابق حملہ کے پیچھے چرچ کی کروڑوں روپے کی مالیت کی زمین بھی ہے، جس پر کچھ ہندووادی رہنما قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور انہوں نے مذہب کے نام پر مقامی لوگوں کو اکسا کر چرچ پر حملہ کروایا۔


عینی شاہدین کے مطابق چرچ پر پیر کی صبح 10 بجے خوفناک حملہ انجام دیا گیا۔ پرنس نامی ایک متاثرہ نوجوان نے بتایا کہ اس خوفناک حملہ کو یاد کر کے وہ ابھی تک لرز رہے ہیں۔ ہندو تنظیموں سے وابستہ سینکڑوں افراد نے لاٹھی ڈنڈے لے کر مسیحی سماج کے لوگوں پر حملہ کیا۔ وہ وندے ماترم اور بھارت ماتا کی جئے اور جئے شری رام کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ انہوں نے ہمارے ساتھ بدسلوکی کی اور ہم پر حملہ کیا۔ ہم پر تبدیلی مذہب کا الزام لگایا۔ ہمارا سامان توڑ دیا اور ہمارے موبائل چھین لیے۔ ہمیں بتایا جائے کہ کیا یہاں صرف ہندو سماج کے لوگ ہی رہیں گے؟

سلونی پورم کی رہائشی پریو سانا پورٹر نے اس واقعہ کے خلاف پولیس رپورٹ درج کرائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ حملہ آوروں کو جانتی تھی کیونکہ وہ مقامی تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگوں سے ان کے خاندانی تعلقات ہیں اور ان میں سے ایک نے مجھے پڑھایا بھی ہے، لیکن نفرت نے اسے اندھا کر دیا ہے۔ ان کی قیادت بی جے پی کی یوتھ ونگ اور او بی سی شعبہ کے لیڈران کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ خاتون لیڈران بھی موجود تھیں اور حملہ آوروں کی تعداد 200 سے زائد تھی۔ وہ ہمیں جان سے مارنے کی دھمکی دے رہے تھے۔ اس دوران رجت، سمت پرنس اور ولسن کو بری طرح پیٹا گیا۔ رجت شدید زخمی ہے اور موت سے لڑ رہا ہے۔ وہ ہمیں مارتے رہے، ہم پولیس کو لگاتار کال کر رہے تھے لیکن پولیس ہمیں بچانے نہیں آئی۔


اتراکھنڈ کانگریس سیوا دل کے ریاستی صدر راجیش رستوگی نے بتایا کہ دراصل ہندو تنظیموں کا یہ حملہ منصوبہ بند تھا۔ اس سے قبل لکسر میں بھی تبدیل مذہب کا الزام لگا کر لوگوں سے مار پیٹ کی گئی تھی۔ ادھم سنگھ نگر میں بھی ہنگامہ ہوا۔ اتراکھنڈ میں انتخابات نزدیک دیکھ کر اس طرح کے مسائل کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اقلیتوں پر حملہ کرنا قابل مذمت ہے اور ہم متاثرہ سماج کے ساتھ کھڑے ہیں۔

کانگریس چرچ متاثرین کی حمایت میں امن مارچ نکانے کی تیاری کر رہی ہے۔ راجیش رستوگی نے بتایا کہ اس کا جواب ریاست کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو دینا چاہیے۔ چرچ پر جس دن حملہ ہوا اس دن وزیر اعلیٰ قریبی کنج پور علاقے میں موجود تھے۔ پولیس ان کی مہمان نوازی میں مصروف تھی لیکن وہ اقلیتی مسیحی برادری کی حفاظت نہیں کر سکے۔ اس طرح کے حملوں سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی شبیہ کو نقصان پہنچتا ہے۔


اس معاملے میں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اب تک چرچ پر حملہ کرنے والے ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے جبکہ متاثرین کے خلاف تبدیلی مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اب اس معاملے میں ایک اور ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اسے کویتا نامی خاتون نے درج کرایا ہے۔ یہ ایف آئی آر چرچ مینجمنٹ سے وابستہ لوگوں کے خلاف درج کی گئی ہے۔ کویتا کے مطابق، اتوار کے روز چرچ سے وابستہ لوگوں نے اسے 2 لاکھ روپے اور نوکری کی پیشکش کرتے ہوئے مذہب تبدیل کرنے کی ترغیب دی، جسے اس نے قبول نہیں کیا۔

چرچ سے وابستہ پرنس نے کہا کہ انہیں لگا کہ سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا ہے۔ وہ تین چار دن سے ہلچل محسوس کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ چرچ کے آس پاس گھوم رہے تھے اور ان کے چہرے کے تاثرات درست نہیں تھے۔ وہ فقرے بھی کس رہے تھے۔ ہم نے پولیس کو اس کے بارے میں بتایا تھا لیکن انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ پولیس نے اب بھی کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ ہمارے درجنوں ساتھی زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ چرچ انتظامیہ کے خلاف درج کیا گیا یہ مقدمہ ہماری آواز کو خاموش کرنے کے لیے ہے۔ چرچ پر حملے کی تیاریاں کئی دنوں سے جاری تھیں۔


ایک مقامی دکاندار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیاست اپنی جگہ ہے لیکن کچھ مقامی لیڈران چرچ کی زمین پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ چرچ کے آس پاس کا علاقہ تجارتی نقطہ نظر سے بہت اہم ہے۔ چرچ 35 سال پرانا ہے، تبدیلی مذہب کی کہانی بنائی گئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد اتراکھنڈ کا انٹلی جنس ڈیپارٹمنٹ الرٹ ہو گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تمام گرجا گھروں سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ اتراکھنڈ کے ڈی جی پی اشوک کمار نے اس معاملے میں سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے جبکہ مقامی پولیس نے ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔