لکھیم پور کھیری تشدد: ایس آئی ٹی نے 12 کسانوں کو سمن جاری کیا

کسانوں کی نمائندگی کر رہے وکیل ہرجیت سنگھ نے کہا کہ ’’کچھ کسانوں کو پہلے پوچھ تاچھ کے لیے بلایا گیا تھا کیونکہ وہ بھیڑ کا حصہ تھے، لیکن تشدد میں شامل نہیں تھے۔‘‘

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) نے گزشتہ سال 3 اکتوبر کو ہوئے لکھیم پور کھیری تشدد کے دوران بی جے پی کے تین کارکنان کا مبینہ طور پر پیٹ پیٹ کر قتل کرنے کے معاملے میں 12 کسانوں کو طلب کیا ہے۔ ان میں سے بیشتر کسانوں نے پہلے کہا تھا کہ وہ موقع پر موجود تھے لیکن حملے میں شامل نہیں تھے۔ اس وقت ان پر ’فساد‘ اور ’قصداً چوٹ پہنچانے‘ جیسی ضمانتی دفعات کے تحت الزام لگائے گئے تھے اور انھیں سی آر پی سی کی دفعہ 41 کے تحت ایس آئی ٹی افسران نے چھوڑ دیا تھا۔

اس معاملے میں اب تک سات کسنوں کی گرفتاری عمل میں آ چکی ہے اور ایس آئی ٹی معاملے میں مزید مشتبہ کی تلاش کر رہی ہے۔ ایس آئی ٹی کے ایک رکن نے کہا کہ ’’ہم نے ان کسانوں کے بیان درج کرنے کے لیے سمن جاری کیا ہے جو موقع پر موجود تھے اور بھیڑ کا حصہ تھے۔ ان میں سے کچھ پہلے ہمارے سامنے پیش ہوئے لیکن کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔‘‘


کسانوں کی نمائندگی کر رہے وکیل ہرجیت سنگھ نے کہا کہ ’’کچھ کسانوں کو پہلے پوچھ تاچھ کے لیے بلایا گیا تھا کیونکہ وہ بھیڑ کا حصہ تھے، لیکن تشدد میں شامل نہیں تھے۔ اب جن کسانوں کو سمن ملا ہے، وہ ہی کسانوں کے قتل کے معاملے میں گواہ ہیں۔ ہم ایس آئی ٹی کے قافلے میں سوار دو دیگر ملزمین کی تلاش کا انتظار کر رہے ہیں جو بھاگنے میں کامیاب رہے تھے۔‘‘

مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کے قافلے نے چار کسانوں اور ایک صحافی کو مبینہ طور پر کچل دیا تھا تب ناراض کسانوں نے مبینہ طور پر تین بی جے پی کارکنوں کا قتل کر دیا تھا اور دو ایس یو وی کو آگ لگا دی تھی جو قافلے کا حصہ تھیں۔ اس معاملے میں کراس ایف آئی آر درج کی گئی اور ایس آئی ٹی نے چارج شیٹ داخل کیِ جس میں آشیش سمیت 14 لوگوں کو نامزد کیا گیا، جو کسانوں کی موت کے لیے جیل میں بند ہیں۔ لنچنگ معاملے میں 7 کسانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بعد کے معاملے میں جانچ جاری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔