لکھیم پور کھیری تشدد معاملہ: متوفی کسانوں کے اہل خانہ کا آخری رسومات ادا کرنے سے انکار

لوپریت کے والد نے کہا کہ ’’میرا بیٹا کار کے نیچے کچلا گیا، ذمہ دار شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ انتظامیہ معاملہ کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘

تصویر ویڈیو گریب
تصویر ویڈیو گریب
user

قومی آوازبیورو

لکھیم پور کھیری: اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں اتوار کے روز تشدد میں مارے گئے افراد میں ایک 19 سالہ کسان بھی شامل تھا۔ موت کے آخری لمحات میں لوپریت سنگھ نے اسپتال کے بیڈ سے والد کے جلد از جلد آنے کی گہار لگائی۔ حالانکہ جب تک اہل خانہ پہنچ پاتے، اس کی جان جا چکی تھی۔ لوپریت اور تین دیگر کسان اتوار کے روز مرکزی وزیر اجے مشرا کی یاترا میں احتجاج کے دوران بھڑکے تشدد میں مارے گئے 8 لوگوں میں شامل ہیں۔ وزیر کے قافلہ میں شامل ایک کار نے چار کسانوں کو روند دیا تھا۔

کسانوں کا الزام ہے کہ کار کو وزیر کا بیٹا آشیش مشرا چلا رہا تھا۔ یو پی پولیس نے آج ہی اس کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ تابوت میں رکھی لاش کے پاس زار و قطار روتے ہوئے لوپریت کے کنبہ نے آٹوپسی رپورٹ اور آشیش مشرا کے خلاف ہوئی ایف آئی آر کی کاپی فراہم کئے جانے تک آخری رسومات ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔


لوپریت کے والد نے کہا کہ ’’میرا بیٹا کار کے نیچے کچلا گیا، ذمہ دار شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ انتظامیہ معاملہ کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘ لوپریت کی دو بہنیں اکلوتے بھائی کی موت سے صدمہ کی حالت میں ہیں۔ لوپریت یہ کہتے ہوئے گھر سے نکلا تھا کہ وہ اچھے کام کے لئے باہر جا رہا ہے۔

لوپریت کے والد نے بتایا کہ ’’جب وہ اسے اسپتال لے کر گئے تو اس نے فون کیا۔ میں نے پوچھا بیٹا تم کیسے ہو، تو اس نے کہا پاپا میں ٹھیک ہوں۔ جلدی آئیے۔ میں نے کہا کہ ہم راستہ میں ہیں لیکن جب ہم لکھیم پور کھیری پہنچے تو اس کی موت ہو چکی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔