لکھیم پور کھیری تشدد: مہلوکین کے کنبہ کو 45-45 لاکھ روپے اور سرکاری ملازمت دینے کا اعلان

اے ڈی جی پرشانت کمار نے 8 دن کے اندر قصورواروں کی گرفتاری کا بھروسہ دیا ہے، انھوں نے بتایا کہ قصورواروں کے خلاف کیس درج ہو گیا ہے اور جانچ جاری ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں کسانوں کی موت کے بعد سے کشیدگی برقرار ہے۔ جانکاری کے مطابق اب تک 8 لوگوں کی موت ہو چکی ہے جن میں سے 4 کسان ہیں۔ اپوزیشن نے اس تشدد کے بعد اتر پردیش کی یوگی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کانگریس و سماجوادی پارٹی کے سرکردہ لیڈران کسانوں کی حمایت میں لگاتار آواز بلند کر رہے ہیں۔ حالانکہ لکھیم پوری کھیری جانے کی کوشش کرنے والے سبھی لیڈروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے، لیکن کسانوں کو انصاف دلانے کے لیے حکومت پر دباؤ برقرار ہے۔ اس درمیان خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ حکومت نے کسانوں کے مطالبات کو قبول کر لیا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ کسانوں اور انتظامیہ کے درمیان اتفاق قائم ہو گیا ہے۔ اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر پرشانت کمار نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی طرف سے مہلوکین کے کنبہ کو 45-45 لاکھ روپے کا معاوضہ اور کسان بیمہ سے 5-5 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی کنبہ کے ایک رکن کو اس کی اہلیت کے مطابق ملازمت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ زخمیوں کو 10-10 لاکھ روپے کی مدد دی جائے گی۔ کسانوں کی تحریر پر مقدمہ درج کر کے کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ پورے معاملے کی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج سے عدالتی جانچ بھی کرائی جائے گی۔


اے ڈی جی پرشانت کمار نے 8 دن کے اندر قصورواروں کی گرفتاری کا بھروسہ دلایا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ قصورواروں کے خلاف کیس درج ہو گیا ہے اور جانچ جاری ہے۔ کسی بھی قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔