لکھیم پور کھیری تشدد: سپریم کورٹ پہنچے مہلوک کسانوں کے رشتہ دار، مرکزی وزیر کے بیٹے آشیش کی ضمانت خارج کرنے کا مطالبہ

عرضی میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ نے جرم کی سنگینی پر غور کیے بغیر اور فرد جرم میں آشیش کے خلاف کثیر ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے بھی ضمانت دے دی۔

آشیش مشرا، تصویر آئی اے این ایس
آشیش مشرا، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش انتخاب کے درمیان لکھیم پور کھیری واقعہ میں مرکزی وزیر مملکت اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کو ہائی کورٹ سے ملی ضمانت کے خلاف مہلوک کسانوں کے رشتہ داروں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور ضمانت خارج کرنے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ یوگی حکومت نے ضمانت کے خلاف اپیل دائر نہیں کی ہے۔

عرضی دہندگان نے وکیل پرشانت بھوشن کے ذریعہ سے داخل عرضی میں کہا ہے کہ کسانوں کے اہل خانہ کو سپریم کورٹ کا رخ کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑا کیونکہ ریاستی حکومت آشیش مشرا کو دی گئی ضمانت کو چیلنج دینے والی اپیل عرضی داخل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس میں دلیل دی گئی کہ ہائی کورٹ نے جرم کی سنگینی پر غور کیے بغیر اور فرد جرم میں آشیش کے خلاف زبردست ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے بھی ضمانت دے دی۔ عرضی میں دلیل دی گئی کہ ملزم کے ذریعہ گواہوں کو متاثر کرنے اور انصاف میں رخنہ پیدا کرنے کا اندیشہ ہے۔


گزشتہ ہفتے وکیل سی ایس پانڈا اور شیوکمار ترپاٹھی نے مشرا کی ضمانت کو چیلنج پیش کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے ذریعہ ضمانت دیے جانے کے بعد آشیش مشرا کو جیل سے رِہا کر دیا گیا ہے۔ ان کے وکیلوں نے ان کے ضمانت سے متعلق احکامات کے سلسلے میں تین تین لاکھ روپے کے دو ضمانتی بانڈ جمع کیے تھے۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ سال نومبر میں لکھیم پور کھیری تشدد کی جانچ کی نگرانی کے لیے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے سابق جج، جسٹس راکیش کمار جین کو مقرر کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے واقعہ کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی کا تشکیل نو کیا اور آئی پی ایس افسر ایس بی شراڈکر کو اس کا چیف بنایا گیا تھا۔


وکلاء کے ذریعہ داخل عرضی میں کہا گیا ہے کہ ’’ملزم آشیش مشرا عرف مونو کو ضمانت ملنے اور سبکدوش جج راکیش جین کے ذریعہ مرکزی وزیر مملکت اجے مشرا سے پوچھ تاچھ نہ کرنے کا نتیجہ لکھیم پور مقامی علاقہ اور ریاست کے دیگر حصوں سے آنے والے اور قانون پر عمل کرنے والے پرامن مظاہرین کے حوصلے کو یقینی طور پر متاثر کرتا ہے۔‘‘

اس معاملے میں آشیش مشرا کو گزشتہ سال 9 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ غور طلب ہے کہ تین اکتوبر 2021 کو لکھیم پور کھیری میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کی ایس یو وی نے وہاں تحریک چلا رہے کئی کسانوں کو گاڑی تلے روند دیا تھا، جس میں چار کسانوں اور ایک صحافی کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد ہوئے تصادم میں 4 مزید لوگ مارے گئے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔