عام شہریوں پر ملی ٹنٹ اعانت کار ہونے کا لیبل لگانا حکومت کی ’رول بک‘ کا حصہ ہے: محبوبہ مفتی

عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ عام شہریوں پر ملی ٹنٹ کا اعانت کار ہونے کا لیبل لگانا اب مرکزی سرکار کے رول بک کا حصہ بن گیا ہے۔

محبوبہ مفتی/ تصویر آئی اے این ایس
محبوبہ مفتی/ تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سری نگر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے حیدر پورہ تصادم کے دوران دو شہریوں کی ہلاکت میں عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عام شہریوں پر ملی ٹنٹ کا اعانت کار ہونے کا لیبل لگانا اب مرکزی سرکار کے رول بک کا حصہ بن گیا ہے۔

بتادیں کہ پولیس کے مطابق حیدر پورہ میں پیر کی شام ہونے والے تصادم کے دوران دو ملی ٹنٹ، ایک اعانت کار اور ایک عام شہری جو مکان کا مالک تھا، ہلاک ہوگئے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ مکان مالک الطاف احمد کراس فائرنگ میں از جان ہوا، جبکہ مکان میں کرایے پر رہنے والا مدثر گل نامی شہری ملی ٹنٹ کا اعانت کار تھا، تاہم ان کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک عام شہری تھا اور تجارت کرتا تھا۔


محبوبہ مفتی نے اس ضمن میں اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ’بے گناہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا اور پھر انہیں کراس فائرنگ میں ہلاک کرنا اور اس کے بعد ان پر ملی ٹنٹ کا اعانت کار ہونے کا لیبل لگانا حکومت ہند کے رول بک کا اب حصہ بن گیا ہے‘۔ ان کا ٹوئٹ میں مزید کہنا تھا کہ ’لازمی ہے کہ سچائی کو سامنے لانے کے لئے اور استثنیٰ کے بڑھتے ہوئے کلچر کو ختم کرنے کے لئے اس کی معتبر عدالتی تحقیقات کرائی جائے‘۔

دریں اثنا سی پی آئی (ایم ) کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے اپنے ایک ویڈیو بیان، جو ان کے ٹوئٹر ہینڈل پر اپ لوڈ کیا گیا ہے، میں اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ قانون کی حفاظت نہیں بلکہ اس کی پائمالی ہو رہی ہے۔


ان کا ویڈیو میں کہنا ہے کہ ’کل شام حیدر پورہ میں انکاؤنٹر کے دوران دو عام شہریوں کی جانیں چلی گئیں، کس قدر درد ناک دور سے ہم گزر رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’لواحقین بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ بے گناہ تھے اور ان کا کسی غیر قانونی تنظم سے کوئی رابطہ نہیں تھا‘۔

موصوف لیڈر نے ویڈیو میں کہا کہ سرکار دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ قانون کی بالا دستی چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’لیکن آج کل جو دیکھنے کو مل رہا ہے ایسا لگ رہا ہے کہ قانون کی حفاظت نہیں بلکہ پائمالی ہو رہی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں سچائی کو سامنے لانے کے لئے عدالتی تحقیقات ہونی چاہئے تاکہ لواحقین کی تشفی ہوسکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔